کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص کسی کو اس کی جان کے حوالے سے اسے امان دینے کے بعد پھر اسے قتل کر دے
عَنْ رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فَأَلْقَى إِلَيَّ وِسَادَةً ، وَقَالَ : لَوْلَا أَخِي جِبْرِيلُ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ . قَالَ : فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ ، أَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ " . قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ : مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ ; فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
رفاعہ قتبانی بیان کرتے ہیں : میں مختار کے پاس آیا اس نے میرے لئے تکیہ رکھا اور بولا: اگر میرا بھائی جبریل اس کے پاس سے اٹھ کے ابھی نہ گیا ہوتا تو اسے میں تمہارے لئے رکھ دیتا رفاعہ کہتے ہیں : میں نے یہ ارادہ کیا کہ اس کی گردن اڑا دوں پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی ، جو سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی تھی وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مومن کسی دوسرے مومن کو اس کی جان کے حوالے سے امان دے اور پھر اسے قتل کر دے ، تو میں ایسے قاتل سے لاتعلق ہوؤں گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے ان صحابی کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : ” جو شخص کسی شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دیدے اور پھر اسے قتل کر دے ، تو وہ قیامت کے دن عہد شکنی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت نقل کی ہے : ” جو شخص کسی شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دیدے اور پھر اسے قتل کر دے ، تو وہ قیامت کے دن عہد شکنی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ ، فَأَنَا بَرِيءٌ مِنَ الْقَاتِلِ ، وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ كَثِيرَةٍ ، وَأَحَدُهَا رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دیدے اور پھر اسے قتل کر دے ، تو میں قاتل سے بری الذمہ ہوں اگرچہ قتل ہونے والا شخص کافر ہی کیوں نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے کئی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان میں سے ایک روایت ایسی ہے جس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے کئی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان میں سے ایک روایت ایسی ہے جس کے رجال ثقہ ہیں ۔
عَنْ رِفَاعَةَ أَنَّ صَاحِبًا لَهُ قَالَ : لَوِ انْطَلَقْنَا إِلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ; فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى نَصْرِ أَهْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْطَلَقْنَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَهْوِي إِلَيْهِ فِي الْخَوَرْنَقِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَقَالَ : أَلَا أُرِيكُمْ سَيْفًا ، فَدَعَا بِسَيْفٍ فِي عِلَاقٍ عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ أَسْرَاجٍ ، وَانْتَضَى السَّيْفَ فَجَرَى الْخَاتَمُ إِلَى أَدْنَاهُ ثُمَّ رَجَعَ الْخَاتَمُ إِلَى قَائِمِ السَّيْفِ ، فَأَخَذَهُ فَجَعَلَهُ فِي إِصْبَعِهِ ، ¤ فَقُلْتُ : سَاحِرٌ وَاللَّهِ ، فَأَهْوَيْتُ إِلَى قَائِمِ السَّيْفِ فَذَكَرْتُ كَلِمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَمَّنَكَ الرَّجُلُ فَلَا تَقْتُلْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ وَهُوَ وَهْمٌ ، وَالصَّوَابُ مَا رَوَاهُ السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ ، عَنْ رِفَاعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَارِثِيُّ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ ، عَنْ رِفَاعَةَ ، فَوَهِمَ فِي إِسْنَادِهِ ، وَهُوَ هَذَا الْآتِي . ¤
محمد محی الدین
رفاعہ قتبانی بیان کرتے ہیں : ان کے ایک ساتھی نے کہا: اگر ہم مختار بن ابوعبید کے پاس جائیں تو یہ مناسب ہو گا کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کی مدد کرنے کی طرف دعوت دے رہا ہے ہم لوگ وہاں گئے ، خورنق ( نامی محل ) میں ، اس کے پاس آئے ، وہ بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو تلوار نہ دکھاؤں پھر اس نے ایک تلوار منگوائی جو ایک میان میں تھی ، اور اس پر تین تہیں تھیں ، اس نے میان میں سے تلوار نکالی ، تو انگوٹی چل کر اس کے پاس آئی ، پھر وہ چل کر تلوار کی میان کی طرف گئی ، اس نے وہ لی اور اسے اپنی انگلی میں ڈال دیا میں نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ تو جادوگر ہے میں تلوار کے قبضے کی طرف جھکا لیکن پھر مجھے سیدنا سلیمان بن مسہر رضی اللہ عنہ کی بات یاد آ گئی ، جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص تمہیں امان دیدے ، تو تم اسے قتل نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ابومسہر نے سیدنا سلیمان بن مسہر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس روایت کو اسی طرح نقل کیا ہے ، اور یہ وہم ہے درست روایت وہ ہے جو سدی اور دیگر حضرات نے رفاعہ کے حوالے سے سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے اسے عبداللہ بن میسرہ حارثی واسطی کے حوالے سے ابوعکاشہ کے حوالے سے رفاعہ سے نقل کیا ہے انہیں اس کی سند میں وہم ہوا ہے ، اور وہ روایت آگے آ رہی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ابومسہر نے سیدنا سلیمان بن مسہر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس روایت کو اسی طرح نقل کیا ہے ، اور یہ وہم ہے درست روایت وہ ہے جو سدی اور دیگر حضرات نے رفاعہ کے حوالے سے سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے اسے عبداللہ بن میسرہ حارثی واسطی کے حوالے سے ابوعکاشہ کے حوالے سے رفاعہ سے نقل کیا ہے انہیں اس کی سند میں وہم ہوا ہے ، اور وہ روایت آگے آ رہی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ أَنَّ رِفَاعَةَ الْبَجَلِيَّ دَخَلَ عَلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ فَقَالَ لَهُ الْمُخْتَارُ : انْصَرَفَ عَنِّي جِبْرِيلُ آنِفًا ، قَالَ رِفَاعَةُ : فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَفَاعَةُ بْنُ صُرَدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَلَا يَقْتُلْهُ " . ¤ قَالَ رِفَاعَةُ : وَقَدْ كُنْتُ أَمَّنْتُهُ عَلَى دَمِهِ ، فَلَوْلَا ذَلِكَ لَحَزَزْتُ رَأْسَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَحَكَمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْسَرَةَ بِالْوَهْمِ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعکاشہ بیان کرتے ہیں : رفاعہ بجلی مختار بن ابوعبید کے پاس آئے مختار نے ان سے کہا: ابھی جبریل میرے پاس سے اٹھ کے گئے ہیں رفاعہ کہتے ہیں : مجھے ایک حدیث یاد آ گئی ، جو سیدنا رفاعہ بن صرد رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص دوسرے شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دیدے ، تو وہ اسے قتل نہ کرے “ ۔ رفاعہ کہتے ہیں : میں مختار کو اس کی جان کے حوالے سے امان دے چکا تھا اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں نے اس کا سر اڑا دینا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے عبداللہ بن میسرہ پر یہ حکم عائد کیا ہے کہ اسے اس روایت میں وہم ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے عبداللہ بن میسرہ پر یہ حکم عائد کیا ہے کہ اسے اس روایت میں وہم ہوا ہے ۔
وَعَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا فَقَتَلَهُ ، وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ ، وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص کسی کو امان دیدے اور پھر اسے قتل کر دے ، تو اس شخص کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے اگرچہ قتل ہونے والا شخص کافر ہی کیوں نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن أحمد واسطی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن أحمد واسطی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔