مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَنْ أَمِنَهُ أَحَدٌ عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ باب: جو شخص کسی کو اس کی جان کے حوالے سے اسے امان دینے کے بعد پھر اسے قتل کر دے
وَعَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ أَنَّ رِفَاعَةَ الْبَجَلِيَّ دَخَلَ عَلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ فَقَالَ لَهُ الْمُخْتَارُ : انْصَرَفَ عَنِّي جِبْرِيلُ آنِفًا ، قَالَ رِفَاعَةُ : فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَفَاعَةُ بْنُ صُرَدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَلَا يَقْتُلْهُ " . ¤ قَالَ رِفَاعَةُ : وَقَدْ كُنْتُ أَمَّنْتُهُ عَلَى دَمِهِ ، فَلَوْلَا ذَلِكَ لَحَزَزْتُ رَأْسَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَحَكَمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْسَرَةَ بِالْوَهْمِ فِيهِ . ¤ابوعکاشہ بیان کرتے ہیں : رفاعہ بجلی مختار بن ابوعبید کے پاس آئے مختار نے ان سے کہا: ابھی جبریل میرے پاس سے اٹھ کے گئے ہیں رفاعہ کہتے ہیں : مجھے ایک حدیث یاد آ گئی ، جو سیدنا رفاعہ بن صرد رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص دوسرے شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دیدے ، تو وہ اسے قتل نہ کرے “ ۔ رفاعہ کہتے ہیں : میں مختار کو اس کی جان کے حوالے سے امان دے چکا تھا اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں نے اس کا سر اڑا دینا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے عبداللہ بن میسرہ پر یہ حکم عائد کیا ہے کہ اسے اس روایت میں وہم ہوا ہے ۔