حدیث نمبر: 10714
وَعَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ أَنَّ رِفَاعَةَ الْبَجَلِيَّ دَخَلَ عَلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ فَقَالَ لَهُ الْمُخْتَارُ : انْصَرَفَ عَنِّي جِبْرِيلُ آنِفًا ، قَالَ رِفَاعَةُ : فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَفَاعَةُ بْنُ صُرَدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَلَا يَقْتُلْهُ " . ¤ قَالَ رِفَاعَةُ : وَقَدْ كُنْتُ أَمَّنْتُهُ عَلَى دَمِهِ ، فَلَوْلَا ذَلِكَ لَحَزَزْتُ رَأْسَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَحَكَمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْسَرَةَ بِالْوَهْمِ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین

ابوعکاشہ بیان کرتے ہیں : رفاعہ بجلی مختار بن ابوعبید کے پاس آئے مختار نے ان سے کہا: ابھی جبریل میرے پاس سے اٹھ کے گئے ہیں رفاعہ کہتے ہیں : مجھے ایک حدیث یاد آ گئی ، جو سیدنا رفاعہ بن صرد رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص دوسرے شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دیدے ، تو وہ اسے قتل نہ کرے “ ۔ رفاعہ کہتے ہیں : میں مختار کو اس کی جان کے حوالے سے امان دے چکا تھا اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں نے اس کا سر اڑا دینا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے عبداللہ بن میسرہ پر یہ حکم عائد کیا ہے کہ اسے اس روایت میں وہم ہوا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10714
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف