حدیث نمبر: 10711
عَنْ رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فَأَلْقَى إِلَيَّ وِسَادَةً ، وَقَالَ : لَوْلَا أَخِي جِبْرِيلُ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ . قَالَ : فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ ، أَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ " . قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ : مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ ; فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

رفاعہ قتبانی بیان کرتے ہیں : میں مختار کے پاس آیا اس نے میرے لئے تکیہ رکھا اور بولا: اگر میرا بھائی جبریل اس کے پاس سے اٹھ کے ابھی نہ گیا ہوتا تو اسے میں تمہارے لئے رکھ دیتا رفاعہ کہتے ہیں : میں نے یہ ارادہ کیا کہ اس کی گردن اڑا دوں پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی ، جو سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی تھی وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مومن کسی دوسرے مومن کو اس کی جان کے حوالے سے امان دے اور پھر اسے قتل کر دے ، تو میں ایسے قاتل سے لاتعلق ہوؤں گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے ان صحابی کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : ” جو شخص کسی شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دیدے اور پھر اسے قتل کر دے ، تو وہ قیامت کے دن عہد شکنی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10711
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (223/5)»