کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: جو شخص مظلوم کے قتل یا اس کو دی جانے والی سزا کے موقع پر پاس موجود ہو
❮
❯
عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَشْهَدَنَّ أَحَدُكُمْ قَتِيلًا ; لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قُتِلَ مَظْلُومًا فَتُصِيبُهُ السُّخْطَةُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَعَسَى أَنْ يُقْتَلَ مَظْلُومًا ; فَتَنْزِلَ السُّخْطَةُ عَلَيْهِمْ ، فَتُصِيبَهُ مَعَهُمْ " . وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا خرشہ بن حر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کوئی بھی شخص کسی کے قتل ہونے کے وقت ہرگز موجود نہ ہو ، ہو سکتا ہے کہ اسے مظلوم ہونے کے طور پر قتل کیا جا رہا ہو ، اور پھر اس ( موجود ہونے والے شخص ) تک بھی ناراضگی پہنچ جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” عنقریب ایسا ہو گا کہ کسی شخص کو مظلوم ہونے کے طور پر قتل کیا جائے گا اور پھر ان لوگوں پر ناراضنگی نازل ہو گی اور ان لوگوں کے ساتھ اسے بھی لاحق ہو گی ( جو وہاں موجود تھا اگرچہ وہ قتل میں شریک نہیں تھا ) “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10709
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4181) اخرجه احمد فى المسند (167/4) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 4181»
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ مَوْقِفًا يُقْتَلُ فِيهِ رَجُلٌ ظُلْمًا ، فَإِنَّ اللَّعْنَةَ تَنْزِلُ عَلَى مَنْ حَضَرَهُ ; حَيْثُ لَمْ يَدْفَعُوا عَنْهُ ، وَلَا يَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ مَوْقِفًا يُضْرَبُ فِيهِ رَجُلٌ ظُلْمًا ; فَإِنَّ اللَّعْنَةَ تَنْزِلُ عَلَى مَنْ حَضَرَهُ حِينَ لَمْ يَدْفَعُوا عَنْهُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَسَدُ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ الْأَزْدِيُّ : مَجْهُولٌ ، وَمِنْدَلٌ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی بھی شخص ایسی جگہ پر ہرگز نہ ٹھہرے جہاں کسی شخص کو ظلم کے طور پر قتل کیا جا رہا ہو کیونکہ وہاں موجود لوگوں پر لعنت نازل ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے اس کا دفاع نہیں کیا اور کوئی بھی شخص ایسی جگہ پر ہرگز نہ ٹھہرے جہاں ظلم کے طور پر کسی شخص کی پٹائی کی جا رہی ہو کیونکہ وہاں موجود لوگوں پر لعنت نازل ہوتی ہے جب انہوں نے اس کا دفاع نہیں کیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسد بن عطاء ہے ازدی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ایک راوی مندل ہے جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10710
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11675) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 11675»