عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا فِي الدُّنْيَا ، سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ نَجَّى مَكْرُوبًا ، فَكَّ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ ، كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْمَعْنَى فِي الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرتا ہے ، جو شخص کسی پریشان حال کو نجات دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی دن کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کر دے گا اور جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں مشغول ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے علم کے حصول کے لئے سفر کرنے سے متعلق باب میں اس مضمون کی کچھ روایات پہلے گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے علم کے حصول کے لئے سفر کرنے سے متعلق باب میں اس مضمون کی کچھ روایات پہلے گزر چکی ہیں ۔
وَعَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ السَّكُونِيِّ : ¤ أَنَّ آتِيًا أَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ لِي جَارًا يَشْرَبُ الْخَمْرَ ، وَيَأْتِي الْقَبِيحَ ، فَأَنْهِ أَمْرَهُ إِلَى السُّلْطَانِ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ قَتَلْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعَةً وَتِسْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَا يَسُرُّنِي أَنْ قَتَلْتُ مِثْلَهُمْ وَأَنِّي كَشَفْتُ قِنَاعَ مُسْلِمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ارطاۃ بن منذر سکونی رضی اللہ عنہ کے بارے یہ بات مذکور ہے : ایک شخص اُن کے پاس آیا اور بولا: میرا پڑوسی شراب پیتا ہے ، اور برے کام کرتا ہے ، تو میں اس کا معاملہ سلطان کے سامنے پیش کروں ۔ سیدنا ارطاة رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ننانوے مشرکین کو قتل کیا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ جب میں نے ان جیسے لوگوں کو قتل کیا ہوا ہو ، تو اس کے باوجود میں کسی مسلمان کی پردہ دری کروں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ أَرْطَاةَ السُّكُونِيِّ : ¤ أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ لَهُ : إِنَّ لَنَا جَارًا يَشْرَبُ الْخَمْرَ ، وَيَأْتِي الْقَبِيحَ ، فَأَرْفَعُ أَمْرَهُ إِلَى السُّلْطَانِ ؟ قَالَ : لَقَدْ قَتَلْتُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُحِبُّ أَنِّي قَتَلْتُ مِثْلَهُمْ ، وَأَنِّي كَشَفْتُ قِنَاعَ مُسْلِمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا لقيط بن ارطاۃ سکونی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مذکور ہے : ایک شخص نے ان سے کہا: ہمارا ایک پڑوسی شراب پیتا ہے ، اور برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے کیا میں اس کا معاملہ حکمران کے سامنے پیش کروں تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( رہتے ہوئے ) ننانوے لوگوں کو ( اللہ کی راہ میں ) قتل کیا ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اتنے لوگوں کو قتل کرنے کے باوجود میں کسی مسلمان کی پردہ دری کروں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ¤ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، ، يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَخْلُصِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ " - حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فِي خُدُورِهِنَّ - " لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ ، وَلَا تَتَبَّعُوا عَوْرَاتِهِمْ ; فَإِنَّهُ مِنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ ، تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَخْرِقَهَا عَلَيْهِ فِي بَطْنِ بَيْتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ الطَّائِفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! اے ان لوگوں کے گروہ ! جو اپنی زبان کے ذریعے ایمان لائے ہیں لیکن ایمان ان کے دل تک نہیں پہنچا راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے میں موجود خواتین تک آواز پہنچائی ( آپ نے فرمایا : ) تم مسلمانوں کو اذیت نہ پہنچاؤ اور ان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو نہ کرو کیونکہ جو شخص اپنے بھائی کے پوشیدہ معاملے کی جستجو کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملے کو ظاہر کر دے گا ، یہاں تک کہ اسے یوں ظاہر کرے گا کہ وہ شخص اپنے گھر میں موجود ہو گا ( اور پھر بھی وہ چیز ظاہر ہو جائے گی ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ طائفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ طائفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَرَى مُؤْمِنٌ مِنْ أَخِيهِ عَوْرَةً ، فَيَسْتُرُهَا عَلَيْهِ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مومن اپنے بھائی کی قابل پردہ کوئی چیز دیکھ کر اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ اسے اس وجہ سے جنت میں داخل کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔
وَعَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ سَتَرَ حُرْمَةً مُؤْمِنَةً سَتَرَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی مومن کی حرمت کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے بچائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنْ سَتَرَ عَوْرَةً ، فَكَأَنَّمَا أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ فِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ وَهُوَ أَخَفُّ ضَعْفًا مِنْ طَلْحَةَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس نے کسی کی پردہ پوشی کی تو گویا اس نے زندہ گاڑی جانے والی بچی کو اس کی قبر میں زندگی دی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے جس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے ، اور یہ طلحہ سے کم ضعیف ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے جس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے ، اور یہ طلحہ سے کم ضعیف ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ رَأَى مِنْ أَخِيهِ رَتْقَةً فِي دِينِهِ فَسَتَرَهُ عَلَيْهَا ، كَانَتْ لَهُ حَسَنَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو صَالِحٍ الْخُوزِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے بھائی کی طرف سے اس کے دین میں کوئی خامی دیکھے اور پھر اس کی پردہ پوشی کرے تو یہ چیز اس کے لئے قیامت کے دن نیکی ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوصالح خوزی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوصالح خوزی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ شِهَابٍ ، رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " مَنْ سَتَرَ عَلَى مُؤْمِنٍ فَكَأَنَّمَا أَحْيَا مَيِّتًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الذَّيَّالِ عَنْ أَبِي سِنَانٍ الْمَدَنِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شہاب رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : - ” جو شخص کسی مومن کے پوشیدہ معاملے کی پردہ پوشی کرتا ہے ، تو گویا وہ مردہ کو زندگی دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مسلم بن ابوذیال کے حوالے سے ابوسنان مدنی سے نقل کی ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مسلم بن ابوذیال کے حوالے سے ابوسنان مدنی سے نقل کی ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : خَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى أَهْلِ الدَّارِ ، فَقَالَ لَهُمْ : مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ مُسْتَفْتِيًا فَلْيَجْلِسْ عَلَى ثَفِيَّةٍ ، وَمَنْ جَاءَ مِنْكُمْ مُخَاصِمًا فَلْيُكْرِمْ خَصْمَهُ حَتَّى نَقْضِيَ بَيْنَهُمَا ، وَمَنْ جَاءَ مِنْكُمْ يُطْلِعُنَا عَلَى عَوْرَةٍ سَتَرَهَا اللَّهُ ، فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ ، وَلْيَسْتُرْهَا إِلَى مَنْ يَمْلِكُ مَغْفِرَتَهَا ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ مَغْفِرَتَهَا ، أُقِيمُ عَلَيْهِ حَدًّا وَبِأَبْعَارِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گھر سے نکل کر باہر موجود افراد کے پاس تشریف لائے انہوں نے ان لوگوں سے فرمایا : تم میں سے جو شخص مسئلہ معلوم کرنے کے لئے آیا ہے وہ اپنی جگہ پر بیٹھ جائے تم میں سے جو شخص کوئی مقدمہ لے کر آیا ہے ، تو وہ اپنے مقابل فریق کو بھی لے کر آئے تاکہ ہم ان کے درمیان فیصلہ دیں اور تم میں سے جو شخص ہمیں کسی شخص کے پوشیدہ معاملہ کے بارے میں اطلاع دینے آیا ہے ، جس کی اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کی ہوئی ہو ، تو اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے پردے کو پردے میں رکھنا چاہیے اور اس پردے کی چیز کو اس ذات کے سپرد کرنا چاہیے جو اس کو مغفرت کرنے کی مالک ہے کیونکہ میں اس کی مغفرت کرنے کا مالک نہیں ہوں ، میں تو اس شخص پر حد جاری کروں گا ، اور سزا دوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : ¤ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ مُتَحَنِّطًا ، فَلَمَّا رَآهُ وَوَجَدَ رِيحَ الْحَنُوطِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذَا ، قَالَ : فَجَاءَهُ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ ، وَسَأَلَهُ أَنْ يُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، قَالَ : اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ ، وَاسْتُرْ عَلَى نَفْسِكَ ، وَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُعْتِقَهَا فَافْعَلْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس نے حنوط لگائی ہوئی تھی جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا تو انہیں اس میں سے حنوط کی خوشبو محسوس ہوئی ، تو انہوں نے کہا: اے اللہ میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں راوی کہتے ہیں : وہ شخص ان کے پاس آیا اور اس نے یہ بات ذکر کی کہ اس نے اپنی بیوی کی کنیز کے ساتھ صحبت کر لی ہے اس نے ان سے درخواست کی کہ وہ اس پر حد جاری کریں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اپنی ذات کی پردہ پوشی کرو اگر تم سے ہو سکے تو اس کنیز کو آزاد کر دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے : ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، تا ہم اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے : ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، تا ہم اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔