مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ السَّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ باب: مسلمان کی پردہ پوشی کرنا
حدیث نمبر: 10474
وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ أَرْطَاةَ السُّكُونِيِّ : ¤ أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ لَهُ : إِنَّ لَنَا جَارًا يَشْرَبُ الْخَمْرَ ، وَيَأْتِي الْقَبِيحَ ، فَأَرْفَعُ أَمْرَهُ إِلَى السُّلْطَانِ ؟ قَالَ : لَقَدْ قَتَلْتُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُحِبُّ أَنِّي قَتَلْتُ مِثْلَهُمْ ، وَأَنِّي كَشَفْتُ قِنَاعَ مُسْلِمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا لقيط بن ارطاۃ سکونی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مذکور ہے : ایک شخص نے ان سے کہا: ہمارا ایک پڑوسی شراب پیتا ہے ، اور برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے کیا میں اس کا معاملہ حکمران کے سامنے پیش کروں تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( رہتے ہوئے ) ننانوے لوگوں کو ( اللہ کی راہ میں ) قتل کیا ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اتنے لوگوں کو قتل کرنے کے باوجود میں کسی مسلمان کی پردہ دری کروں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔