حدیث نمبر: 10481
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : خَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى أَهْلِ الدَّارِ ، فَقَالَ لَهُمْ : مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ مُسْتَفْتِيًا فَلْيَجْلِسْ عَلَى ثَفِيَّةٍ ، وَمَنْ جَاءَ مِنْكُمْ مُخَاصِمًا فَلْيُكْرِمْ خَصْمَهُ حَتَّى نَقْضِيَ بَيْنَهُمَا ، وَمَنْ جَاءَ مِنْكُمْ يُطْلِعُنَا عَلَى عَوْرَةٍ سَتَرَهَا اللَّهُ ، فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ ، وَلْيَسْتُرْهَا إِلَى مَنْ يَمْلِكُ مَغْفِرَتَهَا ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ مَغْفِرَتَهَا ، أُقِيمُ عَلَيْهِ حَدًّا وَبِأَبْعَارِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گھر سے نکل کر باہر موجود افراد کے پاس تشریف لائے انہوں نے ان لوگوں سے فرمایا : تم میں سے جو شخص مسئلہ معلوم کرنے کے لئے آیا ہے وہ اپنی جگہ پر بیٹھ جائے تم میں سے جو شخص کوئی مقدمہ لے کر آیا ہے ، تو وہ اپنے مقابل فریق کو بھی لے کر آئے تاکہ ہم ان کے درمیان فیصلہ دیں اور تم میں سے جو شخص ہمیں کسی شخص کے پوشیدہ معاملہ کے بارے میں اطلاع دینے آیا ہے ، جس کی اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کی ہوئی ہو ، تو اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے پردے کو پردے میں رکھنا چاہیے اور اس پردے کی چیز کو اس ذات کے سپرد کرنا چاہیے جو اس کو مغفرت کرنے کی مالک ہے کیونکہ میں اس کی مغفرت کرنے کا مالک نہیں ہوں ، میں تو اس شخص پر حد جاری کروں گا ، اور سزا دوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10481
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8906)»