حدیث نمبر: 10473
وَعَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ السَّكُونِيِّ : ¤ أَنَّ آتِيًا أَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ لِي جَارًا يَشْرَبُ الْخَمْرَ ، وَيَأْتِي الْقَبِيحَ ، فَأَنْهِ أَمْرَهُ إِلَى السُّلْطَانِ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ قَتَلْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعَةً وَتِسْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَا يَسُرُّنِي أَنْ قَتَلْتُ مِثْلَهُمْ وَأَنِّي كَشَفْتُ قِنَاعَ مُسْلِمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ارطاۃ بن منذر سکونی رضی اللہ عنہ کے بارے یہ بات مذکور ہے : ایک شخص اُن کے پاس آیا اور بولا: میرا پڑوسی شراب پیتا ہے ، اور برے کام کرتا ہے ، تو میں اس کا معاملہ سلطان کے سامنے پیش کروں ۔ سیدنا ارطاة رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ننانوے مشرکین کو قتل کیا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ جب میں نے ان جیسے لوگوں کو قتل کیا ہوا ہو ، تو اس کے باوجود میں کسی مسلمان کی پردہ دری کروں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10473
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (998)»