عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَجْمَعُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي جَوْفِ رَجُلٍ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانَ جَهَنَّمَ ، وَمَنِ اغْبَرَّتْ [ قَدَمُاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ سَائِرَ جَسَدِهِ عَلَى النَّارِ ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ] فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ مِنْهُ النَّارَ مَسِيرَةَ أَلْفِ عَامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْتَعْجَلِ ، وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِخَاتَمِ الشُّهَدَاءِ ، لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهَا مِثْلُ لَوْنِ الزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا مِثْلُ [ رِيحِ ] الْمِسْكِ ، يُعْرِفُهُ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخَرُونَ يَقُولُونَ : فُلَانٌ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ ، وَمَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ خَالِدَ بْنَ دُرَيْكٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَلَمْ يُدْرِكْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کسی شخص کے پیٹ میں اللہ کی راہ کے غبار اور جہنم کے دھویں کو جمع نہیں کرے گا ، جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں گے اللہ تعالیٰ اس کے پورے جسم کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا ، اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو ایک ہزار برس کی مسافت جتنا دور کر دے گا ، جس مسافت کو کوئی تیز رفتار سوار طے کرتا ہے اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم آئے گا اسے شہداء کی مہر لگا دی جائے گی اور وہ زخم قیامت کے دن اس شخص کے لئے نور ہو گا ، جس کا رنگ زعفران کے رنگ کی مانند ہو گا ، اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو کی مانند ہو گی جس کے ذریعے اسے تمام پہلے والے اور بعد والے لوگ پہچان لیں گے اور یہ کہیں گے فلاں شخص پر شہداء کی مہر ہے اور جو شخص اونٹنی کا دودھ دوہنے جتنے عرصہ کے لئے اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لے گا اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ خالد بن دریک نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اس نے ان کا زمانہ بھی نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ خالد بن دریک نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اس نے ان کا زمانہ بھی نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الْمُصَبِّحِ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ بِدَرْبٍ قَلَمْتَةَ إِذْ نَادَى الْأَمِيرُ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيُّ رَجُلًا يَقُودُ فَرَسَهُ فِي عِرَاضِ الْجَبَلِ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَلَا تَرْكَبُ ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَحَدِ الطَّرِيقَيْنِ : " سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ فِي أَحَدِ الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَبَا الْمُصَبِّحِ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَالَ أَحْمَدُ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى : " سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ " أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
ابومصبح بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم درب قلمتہ میں چل رہے تھے اسی دوران امیر مالک بن عبداللہ خثعمی نے ایک شخص کو بلند آواز میں پکارا جو اپنے گھوڑے کو پہاڑ کی طرف لے کے چل رہا تھا ، اور یہ کہا: اے ابوعبداللہ ! آپ سوار کیوں نہیں ہوتے ؟ تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں گے تو وہ دونوں جہنم پر حرام ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے دو طریقوں میں سے ایک روایت میں ان کے الفاظ یہ ہیں : ” دن کی ایک گھڑی کے لئے “ ۔ دو طریقوں میں سے ایک میں امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابومصبح کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے دوسری روایت کے مطابق امام أحمد نے بھی یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” دن کی ایک گھڑی کے لئے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے دو طریقوں میں سے ایک روایت میں ان کے الفاظ یہ ہیں : ” دن کی ایک گھڑی کے لئے “ ۔ دو طریقوں میں سے ایک میں امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابومصبح کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے دوسری روایت کے مطابق امام أحمد نے بھی یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” دن کی ایک گھڑی کے لئے “ ۔
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن عبداللہ خثعمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام قرار دیدے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " . ¤ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا أَكْثَرَ مَاشِيًا مِنْ يَوْمِئِذٍ وَنَحْنُ مِنْ وَرَاءِ الدُّرُوبِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو جائیں اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام قرار دیدے گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اس دن سے زیادہ پیدل چلنے والے افرد کبھی نہیں دیکھے ہم اس وقت دروب سے پیچھے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى قَالَ : مَرَّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيُّ وَهُوَ عَلَى النَّاسِ بِالصَّائِفَةِ بِأَرْضِ الرُّومِ يَقُودُ دَابَّتَهُ فَقَالَ لَهُ : ارْكَبْ فَإِنِّي أَرَى دَابَّتَكَ ظَهِيرَةً قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا النَّارَ " . ¤ قَالَ : فَنَزَلَ مَالِكٌ وَنَزَلَ النَّاسُ يَمْشُونَ فَمَا رُئِيَ يَوْمٌ أَكْثَرَ مَاشِيًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سلیمان بن موسیٰ بیان کرتے ہیں : سیدنا مالک بن عبداللہ خثعمی رضی اللہ عنہ گزر رہے تھے ( شاید یہاں عربی متن میں کچھ الفاظ نقل ہونے سے رہ گئے ہیں ، مطبوعہ نسخے میں یہ الفاظ ہیں : ) وہ روم کی سرزمین میں موجود ” صائفہ “ نام کی جگہ پر لوگوں کے امیر تھے ، وہ اپنے جانور کو ہانک کر لے جا رہے تھے ۔ انہوں نے ان سے کہا: آپ سوار ہو جائیں ، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں آپ کا جانور مضبوط پشت والا ( یعنی سواری کے قابل ) ہے ، تو انہوں نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس بندے کے دونوں قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو جائیں ، اللہ تعالیٰ ان دونوں پر جہنم حرام قرار دیدے گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : مالک بھی نیچے اتر آیا اور دوسرے لوگ بھی نیچے اتر آئے اور پیدل چلنے لگے اس دن سے زیادہ پیدل چلنے والے افراد نہیں دیکھے گئے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ أَنَّ مَالِكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيَّ مَرَّ عَلَى حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، أَوْ حَبِيبٌ مَرَّ عَلَى مَالِكٍ ، وَهُوَ يَقُودُ فَرَسَهُ وَيَمْشِي فَقَالَ : أَلَا تَرْكَبُ فَقَدْ حَمَلَكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن سلیمان بن ابوزینب بیان کرتے ہیں : مالک بن عبداللہ جہنی کا گزر سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا یا شاید حبیب کا گزر مالک کے پاس سے ہوا جو اپنے گھوڑے کو ہانک کر لے جا رہے تھے اور خود پیدل چل رہے تھے ۔ انہوں نے کہا: آپ اس پر سوار کیوں نہیں ہوتے ؟ اللہ تعالیٰ نے یہ آپ کو سواری کے لئے دیا ہے ، تو انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم پر حرام قرار دے دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن سلیمان نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن سلیمان نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُمَا عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں اللہ تعالیٰ ان دونوں کو جنم پر حرام کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کوثر بن حکیم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کوثر بن حکیم ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ مُنْصَرِفِينَ مِنَ الصَّائِفَةِ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ اجْتَمِعُوا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ سَائِرَ جَسَدِهِ عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى الدَّقِيقِيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ¤
محمد محی الدین
عمر بن قیس کندی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور صائفہ سے واپس آ رہے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! اکٹھے ہو جاؤ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں اللہ تعالیٰ اس شخص کے پورے جسم کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ دقیقی ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور مسلم بن ابراہیم نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ دقیقی ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور مسلم بن ابراہیم نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ مَذْكُورٌ فِي تَرْجَمَةِ ابْنِهِ مُحَمَّدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی مسلمان شخص کے پیٹ میں اکٹھے نہیں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوداؤ حرانی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کا ذکر اس کے بیٹے محمد کے حالات میں ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوداؤ حرانی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کا ذکر اس کے بیٹے محمد کے حالات میں ہوا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَجْتَمِعُ فِي مَنْخَرَيْ عَبْدٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ الْأَعْمَى وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی بندے کے نتھنوں میں اکٹھے نہیں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر قریشی اعمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر قریشی اعمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْبَرُّ وَجْهُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا أَمَّنَهُ اللَّهُ دُخَانَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ تَغْبَرُّ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا أَمَّنَ اللَّهُ قَدَمَيْهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جُمَيْعُ بْنُ ثُوَبَ - بِالْفَتْحِ وَقَالَ : بِالضَّمِّ - وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس بھی شخص کا چہرہ اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جہنم کے دھویں سے محفوظ رکھے گا ، اور جس بھی شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دونوں پاؤں کو جہنم سے محفوظ رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن ثوب ہے ، جو زبر کے ساتھ ہے اور ایک قول کے مطابق پیش کے ساتھ ہے اور یہ راوی متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن ثوب ہے ، جو زبر کے ساتھ ہے اور ایک قول کے مطابق پیش کے ساتھ ہے اور یہ راوی متروک ہے ۔
وَعَنْ رَبِيعِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ مُعَتَدِلًا عَنِ الطَّرِيقِ إِذْ أَبْصَرَ شَابًّا مِنْ قُرَيْشٍ يَسِيرُ مُعْتَزِلًا فَقَالَ [ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] : " أَلَيْسَ ذَاكَ فُلَانٌ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَادْعُوهُ " فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكَ اعْتَزَلْتَ عَنِ الطَّرِيقِ ؟ " قَالَ : كَرِهْتُ الْغُبَارَ . قَالَ : " فَلَا تَعْتَزِلْهُ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَذَرِيرَةُ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیع بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم راستے کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے اسی دوران آپ نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو دیکھا جو راستے سے ہٹ کر چل رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا یہ فلاں شخص نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے بلاؤ وہ شخص آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے تم راستے سے کیوں ہٹے ہوئے تھے اس نے جواب دیا : میں غبار کو ناپسند کرتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم راستے سے نہ ہٹو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ ( یعنی اللہ کی راہ کا غبار ) جنت کا ” ذریرہ “ ( مخصوص قسم کی خوشبو ) ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔