حدیث نمبر: 9474
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَجْمَعُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي جَوْفِ رَجُلٍ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانَ جَهَنَّمَ ، وَمَنِ اغْبَرَّتْ [ قَدَمُاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ سَائِرَ جَسَدِهِ عَلَى النَّارِ ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ] فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ مِنْهُ النَّارَ مَسِيرَةَ أَلْفِ عَامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْتَعْجَلِ ، وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِخَاتَمِ الشُّهَدَاءِ ، لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهَا مِثْلُ لَوْنِ الزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا مِثْلُ [ رِيحِ ] الْمِسْكِ ، يُعْرِفُهُ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخَرُونَ يَقُولُونَ : فُلَانٌ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ ، وَمَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ خَالِدَ بْنَ دُرَيْكٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَلَمْ يُدْرِكْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کسی شخص کے پیٹ میں اللہ کی راہ کے غبار اور جہنم کے دھویں کو جمع نہیں کرے گا ، جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں گے اللہ تعالیٰ اس کے پورے جسم کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا ، اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو ایک ہزار برس کی مسافت جتنا دور کر دے گا ، جس مسافت کو کوئی تیز رفتار سوار طے کرتا ہے اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم آئے گا اسے شہداء کی مہر لگا دی جائے گی اور وہ زخم قیامت کے دن اس شخص کے لئے نور ہو گا ، جس کا رنگ زعفران کے رنگ کی مانند ہو گا ، اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو کی مانند ہو گی جس کے ذریعے اسے تمام پہلے والے اور بعد والے لوگ پہچان لیں گے اور یہ کہیں گے فلاں شخص پر شہداء کی مہر ہے اور جو شخص اونٹنی کا دودھ دوہنے جتنے عرصہ کے لئے اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لے گا اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ خالد بن دریک نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اس نے ان کا زمانہ بھی نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9474
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (444/6)»