مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْغُبَارِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ کی راہ میں غبار کی فضیلت
وَعَنْ رَبِيعِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ مُعَتَدِلًا عَنِ الطَّرِيقِ إِذْ أَبْصَرَ شَابًّا مِنْ قُرَيْشٍ يَسِيرُ مُعْتَزِلًا فَقَالَ [ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] : " أَلَيْسَ ذَاكَ فُلَانٌ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَادْعُوهُ " فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكَ اعْتَزَلْتَ عَنِ الطَّرِيقِ ؟ " قَالَ : كَرِهْتُ الْغُبَارَ . قَالَ : " فَلَا تَعْتَزِلْهُ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَذَرِيرَةُ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ربیع بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم راستے کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے اسی دوران آپ نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو دیکھا جو راستے سے ہٹ کر چل رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا یہ فلاں شخص نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے بلاؤ وہ شخص آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے تم راستے سے کیوں ہٹے ہوئے تھے اس نے جواب دیا : میں غبار کو ناپسند کرتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم راستے سے نہ ہٹو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ ( یعنی اللہ کی راہ کا غبار ) جنت کا ” ذریرہ “ ( مخصوص قسم کی خوشبو ) ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔