عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ ، فَأَتَيْنَا ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى شَرَفٍ فَبِتْنَا عَلَيْهِ فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى رَأَيْتُ مَنْ يَحْفِرُ فِي الْأَرْضِ حُفْرَةً يَدْخُلُ فِيهَا وَيُلْقِي عَلَيْهِ الْحَجَفَةَ - يَعْنِي التُّرْسَ - فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ النَّاسِ نَادَى : " مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ وَأَدْعُو اللَّهَ لَهُ بِدُعَاءٍ يَكُونُ فِيهِ فَضْلٌ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " ادْنُهْ " . فَدَنَا فَقَالَ : " مَنْ أَنْتَ ؟ " فَتَسَمَّى لَهُ الْأَنْصَارِيُّ فَفَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالدُّعَاءِ فَأَكْثَرَ مِنْهُ قَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ : فَلَمَّا سَمِعْتُ مَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : أَنَا رَجُلٌ آخَرُ . فَقَالَ : " ادْنُهْ " . فَدَنَوْتُ فَقَالَ : " مَنْ أَنْتَ ؟ " فَقُلْتُ : أَبُو رَيْحَانَةَ ، فَدَعَا لِي بِدُعَاءِ هُوَ دُونَ مَا دَعَا لِلْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ قَالَ : " حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمَعَتْ - أَوْ بَكَتْ - مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَحُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " أَوْ قَالَ : " حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ أُخْرَى ثَالِثَةٍ " . لَمْ يَسْمَعْهَا مُحَمَّدُ بْنُ سُمَيْرٍ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک جنگ میں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک دن ہم ایک ٹیلے پر پہنچے ہم نے اس پر رات گزاری ہمیں شدید سردی لگ رہی تھی ، یہاں تک کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے زمین کھودی اور اس میں داخل ہو گیا اور اپنے اوپر ڈھال رکھ لی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی یہ صورت حال دیکھی تو آپ نے بلند آواز میں دریافت کیا : آج رات کون ہماری پہریداری کرے گا اس کے لئے میں اللہ تعالیٰ سے ایسی دعا کروں گا ، جس میں اس کے لئے فضیلت ہو گی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا کروں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ وہ قریب ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ انصاری نے اپنا نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی اور بکثرت دعا کی ۔ سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سنی تو میں نے عرض کی : میں دوسرا فرد ہوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ ۔ میں قریب ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کون ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ریحانہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے دعا کی ، لیکن یہ اس سے کم تھی ، جو آپ نے انصاری کے لئے کی تھی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جہنم اس آنکھ کے لئے حرام ہے ، جو اللہ کے خوف سے آنسو بہاتی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم اس آنکھ پر حرام ہو جاتی ہے ، جو اللہ کی راہ میں رات بھر جاگتی رہتی ہے ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم تیسری آنکھ پر بھی حرام ہوتی ہے ، لیکن اس بات کا ذکر محمد بن سمیر نامی راوی نے نہیں سنا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ حَرَسَ مِنْ وَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مُتَطَوِّعًا لَا يَأْخُذُهُ سُلْطَانٌ لَمْ يَرَ النَّارَ بِعَيْنَيْهِ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ، فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ : وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ أَحْسَنُ حَالًا مِنْ رِشْدِينَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی پہریداری کرتا ہے اور وہ نفلی طور پر ایسا کرتا ہے اسے کسی سلطان نے نہیں پکڑا ہوتا ، تو اس کی دونوں آنکھیں آگ کو صرف قسم پورا کرنے کے لئے دیکھیں گی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حالت کے اعتبار سے رشدین سے بہتر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حالت کے اعتبار سے رشدین سے بہتر ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ أَبَدًا : عَيْنٌ بَاتَتْ تَكْلَأُ [ الْمُسْلِمِينَ ] فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَرَيَانِ النَّارَ " . وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو قسم کی آنکھوں کو آگ کبھی نہیں چھوئے گی وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی حفاظت کرتے ہوئے رات گزار دے اور وہ آنکھ جو اللہ کی خشیت کی وجہ سے رو پڑے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ آگ کو نہیں دیکھیں گی “ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ آگ کو نہیں دیکھیں گی “ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ : عَيْنٌ بَكَتْ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو قسم کی آنکھوں کو آگ نہیں چھوئے گی وہ آنکھ جو اللہ کے خوف کی وجہ سے رات کے نصف حصے میں رو پڑے اور وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں پہرا دیتے ہوئے رات گزار دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے اور وہ متروک ہے دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے اور وہ متروک ہے دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثَةٌ لَا تَرَى أَعْيُنُهُمُ النَّارَ : عَيْنٌ حَرَسَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَعَيْنٌ كَفَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ أَبُو حَبِيبٍ الْعَنْقَزِيُّ وَيُقَالُ : الْقَنَوِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی آنکھیں آگ کو نہیں دیکھیں گی وہ آنکھ جس نے اللہ کی راہ میں پہرا دیا ہو وہ آنکھ جو اللہ کے خوف کی وجہ سے رو پڑی ہو اور وہ آنکھ جو اللہ کی حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے ہٹی رہی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحبیب عنقزی ہے اور ایک قول کے مطابق قنوی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحبیب عنقزی ہے اور ایک قول کے مطابق قنوی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ جَلَسَ عَلَى الْبَحْرِ احْتِسَابًا وَنِيَّةً احْتِيَاطًا لِلْمُسْلِمِينَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ فِي الْبَحْرِ حَسَنَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَالْإِسْنَادُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ثواب کی امید رکھتے ہوئے نیک نیتی کے ساتھ مسلمانوں کی حفاظت کے لئے سمندر پر بیٹھا رہتا ہے اللہ تعالیٰ سمندر کے ہر قطرے کے عوض میں اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے اور وہ متروک سے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے اور وہ متروک سے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ فَحَدَّثَ أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ فَقَالَ : هَلْ رَآهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ الْخَيْرِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ حَرَسْتُ مَعَهُ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ مَعَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا أُدْخِلَ الْقَبْرَ حَثَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ مِنَ التُّرَابِ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ أَصْحَابَكَ يَظُنُّونَ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : " لَا تَسْأَلْ عَنْ أَعْمَالِ النَّاسِ وَلَكِنْ سَلْ عَنِ الْفِطْرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيِّ ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے آپ نے یہ بات بیان کی ایک شخص کا انتقال ہو گیا آپ نے دریافت کیا : کیا تم میں سے کسی ایک نے اس کو کوئی نیکی کا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ ایک شخص نے عرض کی : جی ہاں ۔ میں نے اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں ایک رات پہرا دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی کھڑے ہوئے آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی جب اس شخص کو قبر میں اتار دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اس کی قبر پر مٹی ڈالی اور پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھی یہ گمان کر رہے تھے کہ تم اہل جہنم میں سے ہو اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم اہل جنت میں سے ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم لوگوں کے اعمال کے بارے میں دریافت نہ کرو بلکہ تم فطرت کے بارے میں دریافت کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق حمصی سے نقل کی ہے جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق حمصی سے نقل کی ہے جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔