کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اللہ کی راہ میں صبح اور شام ( جانے یا کرنے ) کی فضیلت
حدیث نمبر: 9469
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْغَزْوِ ، فَقَالَ رَجُلٌ لِأَهْلِهِ : أَتَخَلَّفُ حَتَّى أُصْلِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ الظُّهْرَ ] ثُمَّ أُسَلِّمَ عَلَيْهِ وَأُوَدِّعَهُ فَيَدْعُوَ لِي بِدَعْوَةٍ تَكُونُ شَافِعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ الرَّجُلُ مُسَلِّمًا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَدْرِي بِكَمْ سَبَقَكَ أَصْحَابُكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ سَبَقُونِي الْيَوْمَ بِغَدْوَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ سَبَقُوكَ بِأَبْعَدَ مِمَّا بَيْنَ الْمَشْرِقَيْنِ وَالْمَغْرِبَيْنِ فِي الْفَضِيلَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے اپنے اصحاب کو ایک جنگی مہم میں جانے کا حکم دیا ایک صاحب نے اپنی بیوی سے کہا: میں پیچھے رہ جاتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد میں آپ کی خدمت میں سلام پیش کروں گا ، اور رخصت ہو جاؤں گا آپ مجھے دعا دیں گے ، جو قیامت کے دن شفاعت کرنے والی ہو گی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی اور وہ شخص آپ کی خدمت میں سلام کرنے کے لئے حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو تمہارے ساتھی تم سے کتنی سبقت لے گئے ہیں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ وہ آج صبح چلے گئے تھے اس حوالے سے سبقت لے گئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے فضیلت کے اعتبار سے وہ تم سے اتنی سبقت لے گئے ہیں جتنا دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کے درمیان فاصلہ ہے اس سے زیادہ ( وہ تم سے سبقت لے گئے ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9470
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ کی راہ میں صبح کرنا یا شام کرنا ، دنیا اور اس میں موجود ( تمام ) چیزوں سے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9471
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّهُ كَانَ تَحْتَ ظِلِّ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، أَوْ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ ذَلِكَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كُورٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُنَا ، فَقَالَ : " نَعَمْ " ثُمَّ أَعَادَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَقَالَ فِيمَا يَقُولُ : " رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا وَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ عَلَى الْمُؤْمِنِ [ حَرَامٌ ] عِرْضُهُ [ وَمَالُهُ ] وَنَفْسُهُ حُرْمَةٌ كَحُرْمَةٍ هَذَا الْيَوْمِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفیان بن وہب خولانی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ حجتہ الوداع کے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے سائے کے نیچے موجود تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک شخص نے انہیں یہ بات بتائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس پر تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ ہمیں مخاطب کر رہے ہیں ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی پھر آپ نے جو بات ارشاد فرمائی اس میں ایک بات یہ بھی تھی : ” اللہ کی راہ میں شام کرنا دنیا اور اس پر موجود تمام چیزوں سے زیادہ بہتر ہے اور اللہ کی راہ میں صبح کرنا دنیا اور اس پر موجود تمام چیزوں سے زیادہ بہتر ہے اور ایک مومن کی عزت اس کا مال اور اس کی جان دوسرے مومن کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح اس دن کی حرمت ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9472
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَفْوَانَ الْمُزَنِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی راہ میں صبح کرنا یا شام کرنا دنیا اور اس میں موجود ( تمام چیزوں ) سے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صفوان مزنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صفوان مزنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9473
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ کی راہ میں صبح کرنا یا شام کرنا ( یا صبح کے وقت جانا یا شام کے وقت جانا ) دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔