کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو کسی چیز کا نگران بنتا ہے
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشْرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَى اللَّهَ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ ، فَكَّهُ بِرُّهُ ، أَوْ أَوْثَقَهُ إِثْمُهُ ، أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ ، وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ ، وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی شخص دس یا اس سے زیادہ آدمیوں کے معاملے کا نگران بنتا ہے ، تو قیامت کے دن جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوئے ہوں گے اس کی نیکی اسے چھڑوا دے گی یا اس کا گناہ اسے پابند کروا دے گا اس ( یعنی ولایت یعنی حکومت ) کی ابتداء ملامت ہے درمیانی حصہ ندامت ہے ، اور آخری حصہ قیامت کے دن رسوائی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابومالک ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9033
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7720) اخرجه احمد فى المسند (267/5)»
وَعَنْ عُبَادَة‍َ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشْرَةٍ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةً يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ ، حَتَّى يُطْلِقَهُ الْحَقُّ أَوْ يُوثِقَهُ ، وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ أَجْذَمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ، دس آدمیوں کا امیر ہو گا وہ بھی جب قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ حق اسے آزاد کروا دے گا یا ( ظلم ) اسے بندھوائے رکھے گا ، اور جو شخص قرآن سیکھے اور پھر اسے بھول جائے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو وہ جذام زدہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9034
درجۂ حدیث محدثین: قال شعيب الارناؤط : صحيح لغيره دون قوله: ومن تعلم القرآن... إلخ
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (323/5)»
وَعَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشْرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ مِنْ ذَلِكَ الْغُلِّ إِلَّا الْعَدْلُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک شخص نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے وہ شخص کہتا ہے : میں نے انہیں ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ نہیں ( اس سے زیادہ مرتبہ یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی شخص دس آدمیوں کا بھی امیر ہو گا ، تو اسے قیامت کے دن لایا جائے گا ، تو اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے اور زیادتی اسے نہیں چھڑوا سکے گی صرف عدل چھڑوائے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے امام أحمد کی اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9035
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1642) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5388) اخرجه أحمد فى المسند ( 285/5)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشْرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا حَتَّى يَفُكَّهُ الْعَدْلُ أَوْ يُوثِقَهُ الْجَوْرُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دس آدمیوں کا امیر ہو گا وہ بھی جب قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ عدل اسے چھڑوا دے گا یا ظلم اسے بندھوا دے گا “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9036
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1640) اخرجه ابو يعلي فى المسند (6570) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (274) اخرجه احمد فى المسند (431/2)»
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا زِيدَ غُلًّا إِلَى غُلِّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِالْأَوَّلِ ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ فِي الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اگر وہ زیادتی کرنے والا ہو گا ، تو اس کی بندش میں اضافہ ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے پہلی روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ پہلی روایت کے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9037
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1641)»
وَفِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ أَيْضًا : " عَافَاهُ اللَّهُ بِمَا شَاءَ أَوْ عَاقَبَهُ بِمَا شَاءَ " . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اسے عافیت عطا کر دے گا ، اور جسے چاہے گا اسے سزا دے گا “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9038
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُجَاءُ بِالْإِمَامِ الْجَائِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَتُخَاصِمُهُ الرَّعِيَّةُ فَيُفْلَحُوا عَلَيْهِ فَيُقَالُ لَهُ : سُدَّ رُكْنًا مِنْ أَرْكَانِ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ظالم حکمران کو لایا جائے گا رعایا اس کے ساتھ جھگڑا کرے گی اور اس کے خلاف ان لوگوں کو کامیاب قرار دیا جائے گا ، اور اس حکمران سے کہا: جائے گا : تم جہنم کے ارکان میں سے ایک رکن ( یا کونے ) کو بھر دو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اغلب بن تمیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9039
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1644)»
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَعْمَلَ بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ عَلَى صَدَقَاتِ هَوَازِنَ فَتَخَلَّفَ بِشْرٌ فَلَقِيَهُ عُمَرُ قَالَ : مَا خَلَّفَكَ أَمَا لَنَا سَمْعٌ وَطَاعَةٌ ؟ قَالَ : بَلَى وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مَنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ ، فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَجَا ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " . ¤ قَالَ : فَخَرَجَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - كَئِيبًا حَزِينًا فَلَقِيَهُ أَبُو ذَرٍّ فَقَالَ : مَا لِي أَرَاكَ كَئِيبًا حَزِينًا ؟ فَقَالَ : مَا لِي لَا أَكُونُ كَئِيبًا حَزِينًا ، وَقَدْ سَمِعْتُ بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَجَا ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " . ¤ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : وَمَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ وَلِيَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَجَا وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ " . ¤ فَأَيُّ الْحَدِيثَيْنِ أَوْجَعُ لِقَلْبِكَ ؟ قَالَ : كِلَاهُمَا قَدْ أَوْجَعَ قَلْبِي ، فَمَنْ يَأْخُذُهَا بِمَا فِيهَا ؟ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : مَنْ سَلَتَ اللَّهُ أَنْفَهُ ، وَأَلْصَقَ خَدَّهُ بِالْأَرْضِ ، أَمَّا إِنَّا لَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا ، وَعَسَى إِنْ وَلَّيْتَهَا مَنْ لَا يَعْدِلُ فِيهَا أَنْ لَا يَنْجُو مِنْ إِثْمِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بشر بن عاصم کو ہوازن کے صدقات وصول کرنے کا اہلکار مقرر کیا ۔ بشر وہاں نہیں گئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی ، تو انہوں نے دریافت کیا : تم کیوں نہیں گئے ؟ کیا تم پر اطاعت و فرمانبرداری لازم نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی بھی چیز کا نگران بنے گا اسے قیامت کے دن لایا جائے گا ، اور اسے جہنم کے پل پر کھڑا کیا جائے گا ، اگر وہ اچھائی کرنے والا ہو گا ، تو نجات پا جائے گا ، اگر وہ برائی کرنے والا ہو گا ، تو وہ پل اسے نیچے گرا دے گا ، اور وہ ستر برس تک جہنم میں گرتا رہے گا “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے غمگین اور پریشان ہو کر نکلے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے کہا: کیا وجہ ہے میں آپ کو غمگین اور پریشان دیکھ رہا ہوں انہوں نے فرمایا : میں کیوں غمگین اور پریشان نہ ہوؤں جبکہ میں نے بشر بن عاصم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی چیز کا نگران بنے گا اسے قیامت کے دن لایا جائے گا ، اور جہنم کے پل پر کھڑا کر دیا جائے گا ، اگر وہ اچھائی کرنے والا ہو گا ، تو اس سے نجات پا جائے گا ، اور اگر وہ برائی کرنے والا ہو گا ، تو وہ پل ایسے نیچے گرا دے گا ، اور وہ شخص جہنم میں ستر برس تک گرتا رہے گا “ ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات نہیں سنی ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص لوگوں میں سے کسی ایک کے معاملے کا نگران بنے گا ، تو اسے قیامت کے دن لایا جائے گا یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے جہنم کے پل پر ٹھہرا دیا جائے گا ، اگر وہ اچھائی کرنے والا ہوا ، تو نجات پا جائے گا ، اور اگر وہ برائی کرنے والا ہوا ، تو وہ پل اُسے نیچے گرا دے گا ، اور وہ شخص جہنم میں ستر برس تک گرتا رہے گا ، اور وہ جہنم سیاہ تاریک ہے “ ۔ ( سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ) ان دو روایت میں سے کون سی آپ کے لئے زیادہ پریشانی کا باعث ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان دونوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے اس ( حکومت ) میں جو خرابی پائی جاتی ہے ، تو پھر کون اس کو حاصل کرے گا ، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” وہ شخص کہ جس کی ناک کو اللہ تعالیٰ نے کاٹ دیا ہو ، اور جس کے رخسار کو زمین سے ملا دیا ہو جہاں تک ہمارا تعلق ہے ، تو ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے اور عنقریب اس کا نگران وہ شخص بنے گا ، جو اس کے بارے میں نہ عدل سے کام لے گا ، اور نہ ہی اس کے گناہ سے نجات پائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9040
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1219)»
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ إِلَيْهِ يَسْتَعِينُ بِهِ عَلَى بَعْضِ الصَّدَقَةِ فَأَبَى أَنْ يَعْمَلَ لَهُ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُمِرَ بِالْوَالِي فَيُوقَفُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ ، فَيَأْمُرُ اللَّهُ الْجِسْرَ فَيَنْتَفِضُ انْتِفَاضَةً فَيَزُولُ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ [ ثُمَّ يَأْمُرُ اللَّهُ الْعِظَامَ فَتَرْجِعُ إِلَى مَكَانِهِ ] ثُمَّ يَسْأَلُهُ ، فَإِنْ كَانَ [ لِلَّهِ ] مُطِيعًا اجْتَبَذَهُ ، فَأَعْطَاهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ ، وَإِنْ كَانَ [ لِلَّهِ ] عَاصِيًا خَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِي جَهَنَّمَ سَبْعِينَ خَرِيفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الْأَحْكَامِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن عاصم اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں ( یعنی ان کے والد کو ) کسی جگہ سے صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لئے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن والی کے بارے میں حکم دیا جائے گا اسے جہنم کے پل پر کھڑا کر دیا جائے گا اللہ تعالیٰ پل کو حکم دے گا وہ ہلے گا ، تو اس شخص کی ہر ایک ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جائے گی پھر اللہ تعالیٰ ان ہڈیوں کو حکم دے گا وہ دوبارہ اپنی جگہ پر واپس چلی جائیں گی ، پھر اللہ تعالیٰ اس سے حساب لے گا ، اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا ، اور اسے اجر کے دو کفل عطا کرے گا ، اور اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہو گا ، تو پل اسے نیچے گرا دے گا ، اور وہ شخص ستر سال تک جہنم میں گرتا رہے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس نوعیت کی کچھ احادیث اس سے پہلے احکام سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9041
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (175/17)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - يَرْفَعُهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ رَجُلٍ وَلِي عَشْرَةً إِلَّا جِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةً يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی شخص دس آدمیوں کا بھی نگران بنے گا ، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ اس شخص اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو گا “ ۔ ( یا اس وقت تک بندھے رہیں گے ، جب تک اس شخص اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9042
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (288) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12689)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ وَلِيَ عَشْرَةً فَحَكَمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَحَبُّوا أَوْ كَرِهُوا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةٌ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَإِنْ كَانَ حَكَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ، وَلَمْ يَحِفْ فِي حُكْمٍ وَلَمْ يَرْتَشِ أُطْلِقَتْ يَمِينُهُ " . ¤ فَقَالَ بَعْضُ جُلَسَاءِ عَطَاءٍ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ وَمَا بُدُّ مِنْ غُلٍّ ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ هَذِهِ الْبِنْيَةِ . وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْكَعْبَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دس آدمیوں کا نگران بنتا ہے ، اور ان کے درمیان ایسا فیصلہ دیتا ہے ، جسے وہ پسند کرتے ہیں یا جسے وہ ناپسند کرتے ہیں ، تو اس شخص کو قیامت کے دن لایا جائے گا ، تو اس شخص کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوئے ہوں گے اگر اس نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ دیا ہو گا ، اور فیصلہ دینے میں کوئی زیادتی نہیں کی ہو گی ۔ اور رشوت نہیں لی ہو گی ، تو اس کو کھول دیا جائے گا “ اس وقت عطاء کے پاس بیٹھے ہوئے افراد میں سے کسی نے کہا: اے ابومحمد پھر تو ملاوٹ ( یا زیادتی ) کی کوئی گنجائش نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اس عمارت کے پروردگار کی قسم ! انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے خانہ کعبہ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9043
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ وَالِي ثَلَاثَةٍ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ مَغْلُولَةً يَمِينُهُ ، فَكَّهُ عَدْلُهُ ، أَوْ غَلَّهُ جَوْرُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَكَذَّبَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَأَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تین آدمیوں کا بھی جو نگران ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گا کہ اس کا ہاتھ بندھا ہوا ہو گا عدل اسے چھڑوا دے گا یا ظلم اسے پابند رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام بن یحیی عنسانی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم اور ابوزرعہ نے اسے جھوٹا کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9044
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (963)»
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشْرَةٍ إِلَّا أَتَى اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةً يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا فُكَّ عَنْهُ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا زِيدَ غُلًّا إِلَى غُلِّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ وَكَّلَاهُمَا فِيهِ ضَعْفٌ وَلَمْ يُوَثَّقْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دس آدمیوں کا بھی امیر ہو گا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کا ہاتھ گردن پر بندھا ہوا ہو گا ، اگر وہ اچھائی کرنے والا ہو گا ، تو اسے نجات مل جائے گی اور اگر وہ برائی کرنے والا ہو گا ، تو اس کی بندش میں اضافہ ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کی سند میں ایسے راوی ہیں جو ضعیف ہیں اور ان کی توثیق نہیں کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9045
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1641)»
وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَعَلَّكَ أَنْ يُنْسَأَ فِي أَجْلِكَ حَتَّى تُؤَمَّرَ عَلَى عَشْرَةٍ حِينَ يَسْكُنُ النَّاسُ الْكَفُورَ فَإِيَّاكَ أَنْ تُؤَمَّرَ عَلَى عَشْرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ ، فَإِنَّهُ لَا يُقَامُ أَحَدٌ عَلَى عَشْرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَى اللَّهَ مَغْلُولَةً يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ ، لَا يَفُكُّهُ مِنْ غِلِّهِ ذَلِكَ إِلَّا الْعَدْلُ إِنْ كَانَ عَدَلَ بَيْنِهِمْ وَلَا تُعَمِّرَنَّ الْكَفُورَ فَإِنَّ عَامِرَ الْكَفُورِ كَعَامِرِ الْقُبُورِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مَسْلَمَةَ بْنِ رَجَاءٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ فرماتے ہیں : ہو سکتا ہے کہ تمہاری عمر زیادہ ہو اور تم دس آدمیوں کے امیر بن جاؤ ایسی جگہ جہاں لوگ آبادی سے ہٹ کے رہتے ہوں ، تو تم دس یا اس سے زیادہ لوگوں کے امیر بننے سے بچنے کی کوشش کرنا کیونکہ جس بھی شخص کو دس آدمیوں یا اس سے زیادہ آدمیوں کا امیر بنایا جائے ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کا ہاتھ بندھا ہوا ہو گا اس نے جو زیادتی کی ہوئی ہو گی وہ اسے نہیں چھڑوائے گی ۔ صرف عدل اسے چھڑوا سکے گا ، اگر اس نے لوگوں کے درمیان عدل کیا ہوا ہو گا اور تم آبادی سے ہٹ کر موجود جگہ کو ہرگز آباد نہ کرنا ، کیونکہ آبادی سے ہٹ کر موجود جگہ کو آباد کرنے والا شخص ، قبروں کو آباد کرنے والے کی مانند ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مسلمہ بن رجاء کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9046
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف