حدیث نمبر: 9033
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشْرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَى اللَّهَ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ ، فَكَّهُ بِرُّهُ ، أَوْ أَوْثَقَهُ إِثْمُهُ ، أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ ، وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ ، وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی شخص دس یا اس سے زیادہ آدمیوں کے معاملے کا نگران بنتا ہے ، تو قیامت کے دن جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوئے ہوں گے اس کی نیکی اسے چھڑوا دے گی یا اس کا گناہ اسے پابند کروا دے گا اس ( یعنی ولایت یعنی حکومت ) کی ابتداء ملامت ہے درمیانی حصہ ندامت ہے ، اور آخری حصہ قیامت کے دن رسوائی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابومالک ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9033
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7720) اخرجه احمد فى المسند (267/5)»