مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ وَلِيَ شَيْئًا . باب: اس شخص کا بیان جو کسی چیز کا نگران بنتا ہے
وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَعَلَّكَ أَنْ يُنْسَأَ فِي أَجْلِكَ حَتَّى تُؤَمَّرَ عَلَى عَشْرَةٍ حِينَ يَسْكُنُ النَّاسُ الْكَفُورَ فَإِيَّاكَ أَنْ تُؤَمَّرَ عَلَى عَشْرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ ، فَإِنَّهُ لَا يُقَامُ أَحَدٌ عَلَى عَشْرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَى اللَّهَ مَغْلُولَةً يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ ، لَا يَفُكُّهُ مِنْ غِلِّهِ ذَلِكَ إِلَّا الْعَدْلُ إِنْ كَانَ عَدَلَ بَيْنِهِمْ وَلَا تُعَمِّرَنَّ الْكَفُورَ فَإِنَّ عَامِرَ الْكَفُورِ كَعَامِرِ الْقُبُورِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مَسْلَمَةَ بْنِ رَجَاءٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ فرماتے ہیں : ہو سکتا ہے کہ تمہاری عمر زیادہ ہو اور تم دس آدمیوں کے امیر بن جاؤ ایسی جگہ جہاں لوگ آبادی سے ہٹ کے رہتے ہوں ، تو تم دس یا اس سے زیادہ لوگوں کے امیر بننے سے بچنے کی کوشش کرنا کیونکہ جس بھی شخص کو دس آدمیوں یا اس سے زیادہ آدمیوں کا امیر بنایا جائے ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کا ہاتھ بندھا ہوا ہو گا اس نے جو زیادتی کی ہوئی ہو گی وہ اسے نہیں چھڑوائے گی ۔ صرف عدل اسے چھڑوا سکے گا ، اگر اس نے لوگوں کے درمیان عدل کیا ہوا ہو گا اور تم آبادی سے ہٹ کر موجود جگہ کو ہرگز آباد نہ کرنا ، کیونکہ آبادی سے ہٹ کر موجود جگہ کو آباد کرنے والا شخص ، قبروں کو آباد کرنے والے کی مانند ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مسلمہ بن رجاء کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔