مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ وَلِيَ شَيْئًا . باب: اس شخص کا بیان جو کسی چیز کا نگران بنتا ہے
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ إِلَيْهِ يَسْتَعِينُ بِهِ عَلَى بَعْضِ الصَّدَقَةِ فَأَبَى أَنْ يَعْمَلَ لَهُ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُمِرَ بِالْوَالِي فَيُوقَفُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ ، فَيَأْمُرُ اللَّهُ الْجِسْرَ فَيَنْتَفِضُ انْتِفَاضَةً فَيَزُولُ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ [ ثُمَّ يَأْمُرُ اللَّهُ الْعِظَامَ فَتَرْجِعُ إِلَى مَكَانِهِ ] ثُمَّ يَسْأَلُهُ ، فَإِنْ كَانَ [ لِلَّهِ ] مُطِيعًا اجْتَبَذَهُ ، فَأَعْطَاهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ ، وَإِنْ كَانَ [ لِلَّهِ ] عَاصِيًا خَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِي جَهَنَّمَ سَبْعِينَ خَرِيفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الْأَحْكَامِ . ¤قیس بن عاصم اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں ( یعنی ان کے والد کو ) کسی جگہ سے صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لئے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن والی کے بارے میں حکم دیا جائے گا اسے جہنم کے پل پر کھڑا کر دیا جائے گا اللہ تعالیٰ پل کو حکم دے گا وہ ہلے گا ، تو اس شخص کی ہر ایک ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جائے گی پھر اللہ تعالیٰ ان ہڈیوں کو حکم دے گا وہ دوبارہ اپنی جگہ پر واپس چلی جائیں گی ، پھر اللہ تعالیٰ اس سے حساب لے گا ، اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا ، اور اسے اجر کے دو کفل عطا کرے گا ، اور اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہو گا ، تو پل اسے نیچے گرا دے گا ، اور وہ شخص ستر سال تک جہنم میں گرتا رہے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس نوعیت کی کچھ احادیث اس سے پہلے احکام سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔