کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حکمرانی کا ناپسندیدہ ہونا اور یہ کس کے لئے مستحب ہے ؟
حدیث نمبر: 9014
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : جَاءَ حَمْزَةُ بْنُ عَبَدَ الْمُطَّلِبِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي عَلَى شَيْءٍ أَعِيشُ بِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا حَمْزَةُ نَفْسٌ تُحْيِيهَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَفْسٌ تُمِيتُهَا ؟ " قَالَ : [ بَلْ ] نَفْسٌ أُحْيِيهَا . قَالَ : " عَلَيْكَ بِنَفْسِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی کام کا نگران مقرر کر دیں تاکہ اس کے ذریعے میں زندگی گزار سکوں ( یعنی روزی کما سکوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے حمزہ کسی جان کو زندگی دینا آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے یا اسے موت دینا آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ۔ بلکہ کسی جان کو زندگی دینا محبوب ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر آپ پر اپنے آپ کا خیال رکھنا لازم ہے ( یا اپنے آپ کو زندگی دینا لازم ہے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9015
وَعَنْ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ قَوْمِي كَفَرُوا فَأُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَ إِلَيْهِمْ جَيْشًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : إِنَّ قَوْمِي عَلَى الْإِسْلَامِ . قَالَ : " أَكَذَاكَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَاتَّبَعْتُهُ لَيْلَتِي إِلَى الصَّبَاحِ ، فَأَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ لَمَّا أَصْبَحْتُ ، وَأَعْطَانِي إِنَاءً أَتَوَضَّأُ مِنْهُ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابِعَهُ فِي الْإِنَاءِ فَانْفَجَرَ عُيُونًا فَقَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلْيَتَوَضَّأْ " . فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ وَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ وَأَعْطَانِي صَدَقَتَهُمْ ، فَقَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : فُلَانٌ ظَلَمَنِي . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِمُسْلِمٍ " ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ صَدَقَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الصَّدَقَةَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَحَرِيقٌ فِي الْبَطْنِ - أَوْ دَاءٌ - " . فَأَعْطَيْتُهُ صَحِيفَتِي أَوْ صَحِيفَةَ إِمْرَتِي وَصَدَقَتِي فَقَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " فَقُلْتُ : كَيْفَ أَقْبَلُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ ؟ ! قَالَ : " هُوَ مَا سَمِعْتَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حبان بن بح صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری قوم کے لوگ کافر تھے مجھے یہ بات بتائی گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف لشکر روانہ کرنے لگے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : میری قوم اسلام پر عمل پیرا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ایسا ہی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں راوی کہتے ہیں : میں رات بھر صبح ہونے تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا پھر میں نے نماز کے لئے اذان دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک برتن دیا تاکہ میں اس سے وضو کر لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس برتن میں ڈالیں ، تو ان انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کرنا چاہتا ہو وہ وضو کر لے میں نے وضو کیا میں نے نماز ادا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری قوم کا امیر مقرر کیا اور مجھے ان کے صدقات وصول کرنے کا نگران مقرر کیا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : فلاں شخص نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کے لئے امیر ہونے میں بھلائی نہیں ہے پھر ایک اور ایک شخص آپ کے پاس آیا اس نے آپ سے صدقہ مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ ، تو سر کا درد ہوتا ہے ، اور پیٹ میں آگ کا باعث ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بیماری کا باعث ہوتا ہے راوی کہتے ہیں : تو میں نے صحیفہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنے امیر ہونے اپنے صدقات وصول کرنے کا نگران ہونے کا صحیفہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : میں نے آپ کی زبانی یہ بات سن لی ہے ، تو اب میں اسے کیسے قبول کر سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ویسا ہی ہے جس طرح تم نے سنا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9016
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ ، وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِهِمْ يَوْمٌ وَدَّ أَنَّهُ مُعَلَّقٌ بِالنَّجْمِ ، وَأَنَّهُ لَمْ يَلِ عَمَلًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ النَّصْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” امراء کے لئے بربادی ہے عرفاء کے لئے بربادی ہے ، اور امناء کے لئے بربادی ہے ( یعنی سرکاری اہلکاروں کے لئے بربادی ہے ) ان لوگوں پر ایک ایسا دن آئے گا کہ جب وہ شخص یہ آرزو کرے گا کہ اسے ستارے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا لیکن وہ کسی ریاستی عہدے کا ذمہ دار نہ بنا ہوتا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سعید نسری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور ایک راوی لیث بن ابوسلیم مدلس ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سعید نسری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور ایک راوی لیث بن ابوسلیم مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 9017
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ ، وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ ، لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا ، يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَكُونُوا عَمِلُوا عَلَى شَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ فِي طَرِيقَيْنِ مِنْ أَرْبَعَةٍ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : امراء کے لئے بربادی ہے عرفاء کے لئے بربادی ہے امناء کے لئے بربادی ہے ( یعنی سرکاری اہلکاروں کے لئے بربادی ہے ) قیامت کے دن کچھ لوگ یہ آرزو کریں گے کہ ان کے بالوں کے ذریعے انہیں ثریا ستارے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا وہ آسمان اور زمین کے درمیان جھول رہے ہوتے لیکن انہوں نے کوئی ریاستی ذمہ داری سرانجام نہ دی ہوتی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور چار میں سے دو طریق کے ان کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور چار میں سے دو طریق کے ان کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 9018
وَعَنْ رَافِعٍ الطَّائِيِّ رَفِيقِ أَبِي بَكْرٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ : وَسَأَلْتُهُ عَمَّا قِيلَ مِنْ بَيْعَتِهِمْ ؟ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ عَمَّا تَكَلَّمَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ ، وَمَا كَلَّمَهُمْ ، وَمَا كَلَّمَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْأَنْصَارَ ، وَمَا ذَكَّرَهُمْ بِهِ مِنْ إِمَامَتِي إِيَّاهُمْ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ : فَبَايَعُونِي لِذَلِكَ وَقَبِلْتُهَا مِنْهُمْ وَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَكُونَ فِتْنَةً تَكُونُ بَعْدَهَا رِدَّةٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ عَيَّاشٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
رافع طائی ، جو غزوہ ذات السلاسل میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : کہ ان لوگوں کی بیعت کے بارے میں جو کچھ کہا: گیا ہے ، تو انہوں نے یہ بتانا شروع کیا کہ انصار کا کیا موقف تھا ، اور انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ کیا بات چیت کی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس حوالے سے انصار سے کیا بات چیت کی اور کس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو میری امامت کے بارے میں ترغیب دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران جو حکم دیا تھا ( کہ میں امامت کروں ) تو انصار نے اس حوالے سے میری بیعت کر لی اور میں نے اس بیعت کو ان کے حوالے سے قبول کر لیا کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی فتنہ نہ آ جائے جس کے بعد مرتد ہونا ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد علی بن عیاش کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد علی بن عیاش کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9019
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ : اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ : لَا أَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ ، وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَيْنِ ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِمُعَاذٍ ؟ " قَالَ : بَلَى . قَالَ : فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي ، فَأَعْفَاهُ قَالَ : وَلَا تُخْبِرَنَّ أَحَدًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَيَزِيدُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن موہب بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں ( یعنی قاضی کے فرائض سر انجام دیں ) انہوں نے فرمایا : میں ، تو دو آدمیوں کے درمیان بھی فیصلہ نہیں دوں گا ، اور میں ، تو دو آدمیوں کی بھی امامت ( یا حکمرانی ) نہیں کروں گا کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے ” جو شخص اللہ کی پناہ مانگتا ہے وہ زبردست پناہ لیتا ہے “ ۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے سرکاری اہلکار مقرر کریں ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا اور کہا: تم اس بارے میں کسی کو نہ بتانا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ یزید نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ یزید نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9020
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : بِئْسَ الشَّيْءُ الْإِمَارَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نِعْمَ الشَّيْءُ الْإِمَارَةُ لِمَنْ أَخْذُهَا بِحَقِّهَا وَحِلِّهَا ، وَبِئْسَ الشَّيْءُ الْإِمَارَةُ لِمَنْ أَخَذَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا تَكُونُ عَلَيْهِ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے انہوں نے کہا: حکومت ایک بری چیز ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حکومت ایک اچھی چیز ہے اس شخص کے لئے جو اس کے حق کے ہمراہ اور اس کی حلال چیزوں کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے ، اور حکومت اس شخص کے حق میں بری چیز ہے جو اسے ناحق طور پر حاصل کرتا ہے قیامت کے دن یہ اس شخص کے لئے حسرت کا باعث ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد حفص بن عمر بن صباح رقی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد حفص بن عمر بن صباح رقی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9021
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، وَهُوَ أَخِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، وَهُوَ افْتَتَحَ إِيلِيَاءَ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، وَهُوَ يُرَاجِعُ مُعَاوِيَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَذْكُرُ الْإِمَارَةَ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ الْإِمَارَةَ فَقَالَ : " أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ ، وَثَانِيهَا نَدَامَةٌ ، وَثَالِثُهَا عَذَابٌ [ مِنَ اللَّهِ ] يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ رَحِمَ وَعَدَلَ وَقَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا بِيَدِهِ بِالْمَالِ " . ثُمَّ سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ : " كَيْفَ بِالْعَدْلِ مَعَ ذِي الْقُرْبَى؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ جو سیدنا حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں اور انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے لئے ایلیاء کو فتح کیا تھا انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امارت کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو امارت کا ذکر کرتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کی پہلی چیز ملامت ہے دوسری ندامت ہے ، اور تیسری چیز قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا عذاب ہو گا البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو رحم کرتا ہے ، اور عدل سے کام لیتا ہے ، اور اس اس طرح کرتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے مال کے بارے میں فرمایا ( کہ وہ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) پھر جب تک اللہ کو منظور تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک خاموش رہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : رشتے داروں کی موجودگی میں عدل کیسے ہو سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم مزنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم مزنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9022
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأَتُكُمْ عَنِ الْإِمَارَةِ وَمَا هِيَ ؟ " . فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ وَثَانِيهَا نَدَامَةٌ وَثَالِثُهَا عَذَابٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ عَدَلَ ، وَكَيْفَ يَعْدِلُ مَعَ قَرَابَتِهِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر تم چاہو تو میں تمہیں امارت کے بارے میں بتاتا ہوں کہ وہ کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ، تو میں نے تین مرتبہ بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی پہلی چیز ملامت ہے دوسری ملامت ہے ، اور تیسری قیمت کے دن عذاب ہے البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو عدل سے کام لیتا ہے ، اور اپنے قرابت داروں کی موجودگی میں وہ کیسے عدل کر سکتا ہے ؟ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9023
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - قَالَ شَرِيكٌ : لَا أَدْرِي رَفْعَهُ أَمْ لَا ؟ - قَالَ : " الْإِمَارَةُ أَوَّلُهَا نَدَامَةٌ ، وَأَوْسَطُهَا غَرَامَةٌ ، وَآخِرُهَا عَذَابٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : شریک نامی راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ حدیث نقل کی ہے ۔ یا مرفوع حدیث کے طور پر یہ حدیث نقل نہیں کی ہے وہ فرماتے ہیں : ” امارت کا ابتدائی حصہ ندامت ہے درمیانی حصہ تاوان ہے ، اور آخری حصہ قیامت کے دن عذاب ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9024
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ عَلَى جَرِيدَةَ خَيْلٍ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتَ ؟ " قَالَ : رَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ وَيَصْنَعُونَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَيْسَ ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ ذَاكَ " . فَقَالَ الْمِقْدَادُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَعْمَلُ عَلَى عَمَلٍ أَبَدًا . فَكَانُوا يَقُولُونَ لَهُ : تَقَدَّمْ فَصَلِّ بِنَا فَيَأْبَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو حَمْزَةَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ مَعِينٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ ” جریدہ خیل “ کا عامل مقرر کیا جب وہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کیسا پایا ؟ تو انہوں نے عرض کی : میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ بلند کرتے تھے اور وہ کام کرتے تھے یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ میں ایسا نہیں ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی ہے ، سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اب میں کبھی کوئی ریاستی ذمہ داری سرانجام نہیں دوں گا راوی کہتے ہیں : لوگ ان سے یہ کہا: کرتے تھے : آپ آگے بڑھ کے ہمیں نماز پڑھا دیں ، تو وہ یہ بات بھی نہیں مانتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوار بن داؤد ابوحمزہ ہے ، جسے امام أحمد ابن حبان اور یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوار بن داؤد ابوحمزہ ہے ، جسے امام أحمد ابن حبان اور یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9025
وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَبْعَثًا فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِي : " كَيْفَ تَجِدُ نَفْسَكَ ؟ " قُلْتُ : مَا زِلْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ مَعِي خَوَلًا لِي وَايْمُ اللَّهِ لَا أَتَأَمَّرُ عَلَى رَجُلَيْنِ بَعْدَهَا أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عُمَيْرَ بْنَ إِسْحَاقَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک جگہ بھیجا جب میں واپس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : تم نے اپنے آپ کو کیسا پایا ؟ میں نے عرض کی : میں مسلسل یہی گمان کرتا رہا کہ میرے ساتھ میرے غلام ہیں ( جو میری فرمانبرداری کر رہے ہیں ) اللہ کی قسم ! اب میں اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کا امیر بھی نہیں بنوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمیر بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور عبداللہ بن أحمد نامی ایک راوی ہے جو ثقہ اور مامون ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمیر بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اور عبداللہ بن أحمد نامی ایک راوی ہے جو ثقہ اور مامون ہے ۔
حدیث نمبر: 9026
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ - قَالَ الْحَضْرَمِيُّ : فِي كِتَابِ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ رَجُلٍ - قَالَ : اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ فَلَمَّا مَضَى وَرَجَعَ إِلَيْهِ قَالَ لَهُ : " كَيْفَ وَجَدْتَ الْإِمَارَةَ ؟ " قَالَ : كُنْتُ كَبَعْضِ الْقَوْمِ إِذَا رَكَنْتُ رَكَنُوا وَإِذَا نَزَلْتُ نَزَلُوا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ [ صَاحِبَ ] السُّلْطَانِ عَلَى بَابِ عَتَبٍ إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ فَقَالَ الرَّجُلُ : وَاللَّهِ لَا أَعْمَلُ لَكَ وَلَا لِغَيْرِكَ أَبَدًا . فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مالک بن حارث نے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ حضرمی کہتے ہیں : ابوکریب کی تحریر میں یہ بات ہے کہ حمید کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک جنگی مہم کا عامل مقرر کیا وہ شخص چلا گیا اور پھر جب وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم نے امارت کو کیسا پایا ؟ اس نے عرض کی : میں ، تو لوگوں کی طرح ایک عام فرد تھا جب میں مائل ہوتا تھا تو وہ بھی مائل ہو جاتے تھے جب میں پڑاؤ کرتا تھا تو وہ بھی پڑاؤ کر لیتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ریاستی عہدہ رکھنے والا شخص عتاب کے دروازے پر ہوتا ہے البتہ جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے اس کا معاملہ مختلف ہے ۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! اب میں نہ ، تو آپ کے لئے ، اور نہ آپ کے علاوہ کسی اور کے لئے ، کبھی کسی کے لئے کوئی ذمہ داری سر انجام نہیں دوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9027
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى عَمَلٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ خِرْ لِي ؟ قَالَ : " الْزَمْ بَيْتَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْفُرَاتُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کسی کام کا اہلکار مقرر کیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے کسی ایک صورت کو اختیار کر لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے گھر میں رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن ابوفرات ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن ابوفرات ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9028
وَعَنْ عِصْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ خِرْ لِي ؟ قَالَ : " اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زکوۃ کی وصولی کا اہلکار مقرر کیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے کسی ایک صورت کو منتخب کر لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے گھر میں بیٹھے رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9029
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الطَّائِيِّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَبَعَثَ مَعَهُ مَعَ ذَلِكَ الْجَيْشِ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَسَرَاةَ أَصْحَابِهِ ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا جَبَلِي طَيِّءٍ فَقَالَ عَمْرٌو : انْظُرُوا إِلَى رَجُلٍ دَلِيلٍ بِالطَّرِيقِ ، فَقَالُوا : مَا نَعْلَمُهُ إِلَّا رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ رَبِيلًا ، فَسَأَلْتُ طَارِقًا : مَا الرَّبِيلُ ؟ قَالَ : اللِّصُّ الَّذِي يَغْزُو الْقَوْمَ وَحْدَهُ فَيَسْرِقُ . ¤ قَالَ رَافِعٌ : فَلَمَّا قَضَيْنَا غَزَاتَنَا وَانْتَهَيْتُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي كُنَّا خَرَجْنَا مِنْهُ تَوَسَّمْتُ أَبَا بَكْرٍ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا صَاحِبَ الْحَلَالِ إِنِّي تَوَسَّمْتُكَ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِكَ فَائْتِنِي بِشَيْءٍ إِذَا حَفِظْتُهُ كُنْتُ مِنْكُمْ وَمِثْلَكُمْ . فَقَالَ : أَتَحْفَظُ أَصَابِعَكَ الْخَمْسَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : اشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ إِنْ كَانَ لَكَ مَالٌ ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، حَفِظْتَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : وَأُخْرَى : لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ . قُلْتُ : وَهَلْ تَكُونُ الْإِمْرَةُ إِلَّا فِيكُمْ أَهْلِ بَدْرٍ ؟ قَالَ : يُوشِكُ أَنْ تَفْشُوا حَتَّى تَبْلُغَكَ وَمَنْ هُوَ دُونَكَ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمَّا بَعَثَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ النَّاسُ فِي الْإِسْلَامِ ، فَمِنْهُمْ مَنْ دَخَلَ فَهَدَاهُ اللَّهُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَكْرَهَهُ السَّيْفُ ، فَهُمْ عُوَّادُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَجِيرَانُ اللَّهِ فِي خِفَارَةِ اللَّهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَانَ أَمِيرًا فَتَظَالَمَ النَّاسُ بَيْنَهُمْ فَلَمْ يَأْخُذْ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ انْتَقَمَ اللَّهُ مِنْهُ ، إِنِ الرَّجُلَ مِنْكُمْ لَتُؤْخَذُ شَاةُ جَارِهِ فَيَظَلُّ نَاتِئَ عَضَلَتِهِ غَضَبًا لِجَارِهِ وَاللَّهُ مِنْ وَرَاءِ جَارِهِ قَالَ رَافِعٌ : فَمَكَثْتُ سَنَةً ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتُخْلِفَ فَرَكَنْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ : أَنَا رَافِعٌ كَنْتُ لَقِيتُكَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا قَالَ : عَرَفْتُ قَالَ : كُنْتَ نَهَيْتَنِي عَنِ الْإِمَارَةِ ثُمَّ رَكَبْتَ أَعْظَمَ مِنْ ذَلِكَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : نَعَمْ فَمَنْ لَمْ يُقِمْ فِيهِمْ كِتَابَ اللَّهِ فَعَلَيْهِ بَهْلَةُ اللَّهِ - يَعْنِي لَعْنَةَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن عمرو طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ذات سلال کے لشکر کا امیر مقرر کر کے بھیجا آپ نے اس لشکر کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جلیل القدر صحابہ کرام کو بھی بھیجا یہ لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے طے کے دو پہاڑوں کے درمیان پڑاؤ کیا ، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ ایسے شخص کو ڈھونڈ لو جو راستے کے بارے میں رہنمائی کرے ، تو لوگوں نے کہا: ہمارے علم کے مطابق صرف رافع بن عمرو یہ کام کر سکتا ہے ، کیونکہ وہ ربیل ہے ( روایت کے ایک راوی کہتے ہیں : ) میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : ربیل سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : چور ، جو اکیلا لوگوں کے پاس جا کر چوری کر لیتا ہے ۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نے اپنی جنگی مہم مکمل کر لی اور میں اس مقام پر پہنچا جہاں سے میں نکلا تھا تو میں نے وہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پایا میں ان کے پاس آیا میں نے کہا: جناب میں نے آپ کے ساتھیوں میں سے آپ کو پایا ہے کہ آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں کہ جب میں اسے یاد کر لوں ، تو میں آپ میں سے ہو جاؤں اور آپ کی مانند ہو جاؤں انہوں نے فرمایا : کیا تم پانچ انگلیوں کے اوپر ( پانچ چیزیں ) یاد رکھ سکتے ہو ؟ میں نے کہا: جی ہاں انہوں نے فرمایا : پھر تم یہ گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور تم نماز ادا کرو اور تم زکوۃ ادا کرو اور اگر تمہارے پاس مال موجود ہو تو تم بیت اللہ کا حج کرو اور رمضان کے روزے رکھو ، کیا تم یاد رکھو گے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : ایک اور بات بھی ہے کہ تم کبھی بھی دو آدمیوں پر امیر نہ بننا میں نے کہا: کیا امیر ہونا صرف آپ لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو اہل بدر ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : ہو سکتا ہے کہ یہ آگے چل کے پھیل جائے یہاں تک کہ یہ تم تک بھی پہنچ جائے بلکہ تم سے نیچے کے افراد تک بھی پہنچ جائے اللہ تعالیٰ نے جب اپنے نبی کو مبعوث کیا ، تو لوگ اسلام میں داخل ہو گئے ان میں سے کچھ ایسے افراد تھے کہ جو اسلام میں داخل ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت دی تھی ان میں سے کچھ ایسے افراد تھے جنہیں تلوار نے مجبور کیا تھا ، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے مہمان اور اللہ تعالیٰ کے پڑوسی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہیں جب کوئی شخص امیر بنے اور لوگوں پر ظلم کرے اور ان میں سے ایک سے دوسرے کا حق نہ وصول کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے انتقام لے گا تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے پڑوسی کی بکری کی وجہ سے گرفت میں آ جائے گا کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ ناراضگی کی وجہ سے اس پر قبضہ رکھے گا حالانکہ اس کے پڑوسی سے پرے ، اللہ تعالیٰ بھی ہے ۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک سال گزر گیا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کر دیا گیا میں ان کے پاس آیا میں نے کہا: میں رافع ہوں میری آپ سے فلاں فلاں جگہ پر ملاقات ہوئی تھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے پہچان لیا ہے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ، تو مجھے امیر بننے سے منع کرتے تھے اور آپ اس سے بڑے امیر بن گئے ہیں ۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری امت کے امیر بن گئے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! جو شخص ان میں اللہ کی کتاب ( کے احکام ) کو برقرار نہیں رکھے گا اس پر اللہ تعالیٰ کی ” بہلت ہو گی راوی کہتے ہیں : یعنی اللہ کی لعنت ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9030
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ أَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَسَأَلْتُهُ : كَيْفَ أَصْبَحْتَ ؟ فَاسْتَوَى جَالِسًا فَقَالَ : أَصْبَحْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا . فَقَالَ : أَمَا إِنِّي عَلَى مَا تَرَى وَجِعٌ ، وَجَعَلْتُمْ لِيَ شُغْلًا مَعَ وَجَعِي ، جَعَلْتُ لَكُمْ عَهْدًا مِنْ بَعْدِي ، وَاخْتَرْتُ لَكُمْ خَيْرَكُمْ فِي نَفْسِي ، فَكُلُّكُمْ وَرِمٌ لِذَلِكَ أَنْفُهُ ، رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ لَهُ ، وَرَأَيْتُ الدُّنْيَا أَقْبَلَتْ وَلَمَّا تُقْبِلُ وَهِيَ جَائِيَةٌ ، وَسَتَجِدُونَ بُيُوتَكُمْ بِسُتُورِ الْحَرِيرِ وَنَضَائِدِ الدِّيبَاجِ ، وَتَأْلَمُونَ ضَجَائِعَ الصُّوفِ الْأَذْرَبِيِّ كَأَنَّ أَحَدَكُمْ عَلَى حَسَكِ السَّعْدَانِ ، وَاللَّهِ لَأَنْ يُقَدَّمَ أَحَدُكُمْ فَيُضْرَبَ عُنُقُهُ فِي غَيْرِ حَدٍّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسِيحَ فِي غَمْرَةِ الدُّنْيَا . ¤ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا إِنِّي لَا آسَى عَلَى شَيْءٍ إِلَّا عَلَى ثَلَاثٍ فَعَلْتُهُنَّ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْهُنَّ ، وَثَلَاثٌ لَمْ أَفْعَلْهُنَّ وَدِدْتُ أَنِّي فَعْلَتُهُنَّ وَثَلَاثٌ وَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُنَّ . ¤ فَأَمَّا الثَّلَاثُ الَّتِي وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْهُنَّ : فَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ كَشَفْتُ بَيْتَ فَاطِمَةَ وَتَرَكْتُهُ ، وَأَنْ أُغْلِقَ عَلَى الْحَرْبِ ، وَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ سَقِيفَةَ بَنِي سَاعِدَةَ قَذَفْتُ الْأَمْرَ فِي عُنُقِ أَحَدِ الرَّجُلَيْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ أَوْ عُمَرَ وَكَانَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَكُنْتُ وَزِيرًا ، وَوَدِدْتُ أَنِّي حِينَ وَجَّهْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ أَقَمْتُ بِذِي الْقَصَّةِ ، فَإِنْ ظَفِرَ الْمُسْلِمُونَ ظَفِرُوا ، وَإِلَّا كُنْتُ رِدْءًا وَمَدَدًا . ¤ وَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي وَدِدْتُ أَنِّي فَعَلْتُهَا : فَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ أَتَيْتُ بِالْأَشْعَثِ أَسِيرًا ضَرَبْتُ عُنُقَهُ ، فَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ لَا يَكُونُ شَرٌّ إِلَّا طَارَ إِلَيْهِ ، وَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ أَتَيْتُ بِالْفُجَاةِ السُّلَمِيِّ لَمْ أَكُنْ أَحْرَقْتُهُ وَقَتَلْتُهُ سَرِيحًا أَوْ أَطْلَقْتُهُ نَجِيحًا ، وَوَدِدْتُ أَنِّي حِينَ وَجَّهْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى الشَّامِ وَجَّهْتُ عُمَرَ إِلَى الْعِرَاقِ فَأَكُونُ قَدْ بَسَطْتُ يَمِينِي وَشِمَالِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ . ¤ وَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي وَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُنَّ : فَوَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُهُ فَيْمَنْ هَذَا الْأَمْرُ ؟ فَلَا يُنَازِعُهُ أَهْلَهُ ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ سَأَلْتُهُ : هَلْ لِلْأَنْصَارِ فِي هَذَا الْأَمْرِ سَبَبٌ ؟ وَوَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُهُ عَنِ الْعَمَّةِ وَبِنْتِ الْأَخِ فَإِنَّ فِي نَفْسِي مِنْهُمَا حَاجَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُلْوَانُ بْنُ دَاوُدَ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَهَذَا الْأَثَرُ مِمَّا أُنْكِرَ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اس بیماری کے دوران ، ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آیا جس بیماری کے دوران کا انتقال ہو گیا تھا میں نے انہیں سلام کیا ان سے دریافت کیا : آپ کا کیا حال ہے ، تو وہ سیدھے ہو کے بیٹھ گئے انہوں نے کہا: الحمدللہ اب میں بہتر ہوں انہوں نے فرمایا : مجھے جو تکلیف ہے وہ تم دیکھ رہے ہو اور اس تکلیف کے باوجود تم لوگوں نے مجھے ایک مصروفیت دی ہے میں نے تم لوگوں کے لئے اپنے بعد ایک عہد طے کیا ہے ، اور تمہارے لئے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا ہے جو میرے نزدیک تم میں سب سے بہتر ہے حالانکہ تم میں سے ہر ایک شخص حکومت میں دلچپسی رکھتا ہے ، یہ امید رکھتے ہوئے کہ حکومت اس کو مل جائے میں نے دنیا کو دیکھا کہ وہ آ رہی ہے ، اور جب وہ آ رہی ہے تو سمجھ لو آ چکی ہے ، عنقریب تم اپنے گھروں کو ریشم کے پردوں اور دیباج کے کپڑوں کے ذریعے آراستہ کر لو گے اور اذربی اون کے بچھونوں سے تمہیں یوں الجھن ہو گی جس طرح کسی کو سعد ان کے کانوں پر رکھ دیا گیا ہے اللہ کی قسم ! تم میں سے کسی ایک شخص کو آگے کر کے کسی جرم کے بغیر اس کی گردن اڑا دی جائے یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ دنیا میں ڈوب جائے پھر انہوں نے فرمایا : مجھے کسی بھی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہے جتنا تین چیزوں پر ہے جو میں نے کی تھیں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے وہ نہ کی ہوتیں ، اور تین ایسی چیزوں پر افسوس ہے کہ میں نے وہ نہیں کی ہیں ، میری یہ خواہش تھی کہ میں نے وہ کر لی ہوتیں اور تین ایسی چیزوں پر افسوس ہے کہ جن کے بارے میں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیا ہوتا جہاں تک ان تین چیزوں کا تعلق ہے جن کے بارے میں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے وہ نہ کی ہوتیں ، تو میری یہ خواہش ہے کہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پردے کو نہ ہٹایا ہوتا اور اسے چھوڑ دیا ہوتا اور یہ کہ میں نے لڑائی کو بند کر دیا ہوتا اور میری یہ خواہش ہے کہ بنو سقیفہ بنو ساعدہ کے دن میں نے حکومت کا معاملہ ابوعبیدہ یا عمر ، ان دونوں میں سے کسی ایک کی گردن میں ڈال دیا ہوتا وہ امیرالمؤمنین ہوتا اور میں وزیر ہوتا اور میری یہ خواہش ہے کہ جب میں نے خالد بن ولید کو مرتدین کی طرف بھیجا تھا تو میں خود زوالقصہ میں ٹھہر جاتا اگر مسلمان کامیاب ہو جاتے ، تو ہو جاتے ورنہ میں ان کو کمک پہنچانے اور مدد کرنے کے لئے موجود ہوتا ۔ جہاں تک ان تین چیزوں کا تعلق ہے کہ جن کی میری یہ خواہش ہے کہ میں نے وہ کر لی ہوتیں تو میری یہ خواہش ہے کہ جس دن میرے پاس اشعث کو قیدی بنا کر لایا گیا تھا اس دن میں نے اس کی گردن اڑا دی ہوتی کیونکہ مجھے یہ خیال آیا تھا کہ جو بھی خرابی ہو گی وہ اس کی طرف جائے گا ، اور میری یہ خواہش تھی کہ جس دن فجاة سلمی کو میرے پاس لایا گیا تھا میں نے اسے جلا دیا نہ ہوتا بلکہ آرام سے قتل کر دیا ہوتا یا اسے چھوڑ دیتا اور میری یہ خواہش تھی کہ جب میں نے خالد بن ولید کو شام کی طرف بھیجا تھا تو عمر کو عراق کی طرف بھیج دیتا تو یوں میں اپنے دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں کو اللہ کی راہ میں پھیلا دیتا ۔ جہاں تک ان تین چیزوں کا تعلق ہے جن کے بارے میں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں دریافت کر لیا ہوتا تو میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کر لیا ہوتا کہ حکومت کس کو ملے گی ؟ تاکہ کوئی شخص اس کے اہل شخص سے تنازع نہ کرتا اور میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیا ہوتا کیا حکومت میں انصار کا بھی کوئی حصہ ہو گا ، اور میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھوپھی اور بھتیجی ( کی وراثت ) کے بارے میں دریافت کیا ہوتا کیونکہ ان دونوں کے حوالے سے میرے ذہن میں ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علوان بن داؤد بجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور یہ اصل ان روایات میں سے ہے جنہیں منکر قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علوان بن داؤد بجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور یہ اصل ان روایات میں سے ہے جنہیں منکر قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9031
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعْتُهُ فَبَلَغَنِي : أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُرْسِلَ جَيْشًا إِلَى قَوْمِي فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ رُدَّ الْجَيْشَ وَأَنَا لَكَ بِإِسْلَامِهِمْ وَطَاعَتِهِمْ . قَالَ : " افْعَلْ " . فَكَتَبْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَتَى وَفْدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْلَامِهِمْ وَطَاعَتِهِمْ . فَقَالَ : " يَا أَخَا صُدَاءٍ إِنَّكَ لَمُطَاعٌ فِي قَوْمِكَ ؟ " . قُلْتُ : بَلْ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِمْ . قَالَ : " أَفَلَا أُؤَمِّرُكَ عَلَيْهِمْ ؟ " قُلْتُ : بَلَى . فَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ فَكَتَبَ لِي بِذَلِكَ كِتَابًا ، وَسَأَلْتُهُ مِنْ صَدَقَاتِهِمْ فَفَعَلَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ [ فَنَزَلَ مَنْزِلًا ] ، فَأَعْرَسْنَا مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ فَلَزِمْتُهُ وَجَعَلَ أَصْحَابِي يَتَقَطَّعُونَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ رَجُلٌ غَيْرِي ، فَلَمَّا تَحَيَّنَ الصُّبْحُ أَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَخَا صُدَاءٍ أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ قَلِيلٌ لَا يَكْفِيكَ . قَالَ : " صُبَّهُ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ ائْتِنِي بِهِ " [ فَأَتَيْتُهُ ] فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَرَأَيْتُ بَيْنَ كُلِّ إِصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ عَيْنًا تَفُورُ ، قَالَ : " يَا أَخَا صُدَاءٍ لَوْلَا أَنِّي أَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّيَ لَسَقَيْنَا وَاسْتَسْقَيْنَا ، نَادِ فِي النَّاسِ مَنْ يُرِيدُ الْوُضُوءَ ؟ " قَالَ : فَاغْتَرَفَ مَنِ اغْتَرَفَ وَجَاءَ بِلَالٌ لِيُقِيمَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ " فَلَمَّا صَلَّى الْفَجْرَ أَتَاهُ أَهْلُ الْمَنْزِلِ يَشْكُونَ عَامِلَهُمْ وَيَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَنَا بِمَا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ [ وَأَنَا فِيهِمْ ] وَقَالَ : " لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ " فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِي وَأَتَاهُ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ فَقَالَ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى فَهُوَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ " فَقَالَ : أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَاتِ . فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَرْضَ فِي الصَّدَقَاتِ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ حَتَّى جَعَلَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ " فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْ إِمَارَتَكَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا . قَالَ : " وَلِمَ ؟ " قُلْتُ : سَمِعْتُكَ تَقُولُ : " لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ " وَقَدْ آمَنْتُ وَسَمِعْتُكَ تَقُولُ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى فَصُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ " وَقَدْ سَأَلْتُكَ وَأَنَا غَنِيٌّ . قَالَ : " هُوَ ذَاكَ فَإِنْ شِئْتَ فَخُذْ وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ " . قَالَ : قُلْتُ : بَلْ أَدَعُ . قَالَ : " فَدُلَّنِي عَلَى رَجُلٍ أُوَلِّيهِ " . فَدَلَلْتُهُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْوَفْدِ فَوَلَّاهُ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا بِئْرًا إِذَا كَانَ الشِّتَاءُ وَسِعَنَا مَاؤُهَا فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهَا ، وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ قَلَّ مَاؤُهَا فَتَفَرَّقْنَا عَلَى مِيَاهِ مَنْ حَوْلَنَا ، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ الْيَوْمَ أَنْ نَتَفَرَّقَ كُلُّ مَنْ حَوْلَنَا عَدُوٌّ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسَعَنَا مَاؤُهَا . قَالَ : فَدَعَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَفَرَكَهُنَّ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَقَالَ : " إِذَا أَتَيْتُمُوهَا فَأَلْقُوا وَاحِدَةً [ وَاحِدَةً ] وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ " . فَمَا اسْتَطَاعُوا أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى قَعْرِهَا بَعْدُ . ¤ قُلْتُ : فِي السُّنَنِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَرَدَّ عَلَى مَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کی بیعت کی ( یعنی آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ) مجھے یہ اطلاع ملی کہ آپ میری قوم کی طرف کوئی لشکر روانہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ لشکر کو روک لیں میں آپ کو ان کے اسلام اور فرما برداری کی ضمانت دیتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے میں نے اپنی قوم کو خط لکھا ان لوگوں کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام قبول کرنے کے لئے اور فرمانبرداری کرنے کے لئے حاضر ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے صداء قبیلے کے فرد تمہاری قوم میں تمہاری بات مانی جاتی ہے میں نے عرض کی : جی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نصیب کی ہے ، اور ان کے ساتھ اچھائی کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں ان لوگوں کا امیر مقرر نہ کر دوں ؟ میں نے عرض کی : ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان لوگوں کا امیر مقرر کر دیا اور اس بارے میں آپ نے میرے لئے تحریر لکھوا دی میں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ مجھے ان کے صدقات وصول کرنے کا نگران بھی بنا دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بھی کر دیا ایک دن سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ہوا تھا ہم لوگوں نے رات کے ابتدائی حصہ میں پڑاؤ کر لیا تھا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا میرے ساتھی ادھر ادھر چلے گئے تھے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرے علاوہ اور کوئی فرد نہیں رہا جب صبح صادق کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا میں نے اذان دی پھر آپ نے دریافت کیا : اے صداء قبیلے کے فرد ! کیا تمہارے پاس پانی ہے میں نے عرض کی : جی ہاں تھوڑا سا ہے وہ آپ کے لئے کفایت نہیں کرے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو برتن میں ڈالو اور پھر میرے پاس لے آؤ میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس میں داخل کیا ، تو میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں سے ہر دو انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹ پڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے صداء ، قبیلے کے فرد اگر مجھے اپنے پروردگار سے حیاء نہ آتی ہوتی ، تو ہم اسے پی بھی لیتے اور پینے کے لئے حاصل بھی کر لیتے تم لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص وضو کرنا چاہتا ہے ( وہ آ جائے ) راوی کہتے ہیں : ، تو لوگوں نے وہ پانی حاصل کر لیا ( جب نماز کا وقت ہوا ) تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صداء قبیلے کے فرد نے اذان دی تھی اور جو اذان دے وہی اقامت کہتا ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ادا کر لی ، تو اس پڑاؤ کی جگہ کے افراد آپ کے پاس آئے ، اور انہوں نے اپنے متعلقہ اہلکار کی شکایت کی اور یہ عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے ہم سے اپنے اور اپنی قوم کے درمیان موجود زمانہ جاہلیت کی ناراضگی کا بدلہ لیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے جن میں ، میں بھی شامل تھا آپ نے ارشاد فرمایا کسی مومن شخص کے لئے امارت میں بھلائی نہیں ہے راوی کہتے ہیں : یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی پھر ایک شخص آپ سے کچھ مانگنے کے لئے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود لوگوں سے مانگتا ہے ، تو یہ چیز سر کا درد اور پیٹ کی بیماری ہے اس نے کہا: آپ صدقات میں سے مجھے کچھ دیدیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ، صدقات کے بارے میں کسی نبی کے حکم یا نبی کے علاوہ کسی کے حکم سے راضی نہیں ہوتا اس نے صدقات کے مستحق آٹھ قسم کے افراد بنائے ہیں اگر تم اُن میں سے ایک ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دیدیتا ہوں جب اگلے دن صبح ہوئی ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا ریاستی عہدہ واپس لے لیں ( جو آپ نے مجھے عطا کیا تھا ) مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : “ مومن شخص کے لئے امارت میں بھلائی نہیں ہے “ ۔ اور میں ایک مومن شخص ہوں ، اور میں نے آپ کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص خوشحالی کے باوجود لوگوں سے مانگے گا ، تو یہ چیز سر کا درد ہے ، اور پیٹ کی بیماری ہے “ ۔ تو میں نے ، تو اس حال میں یہ مانگا ہے کہ جب میں خوشحال ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ ایسا ہی ہے اگر تم چاہو تو اسے لے لو اور اگر چاہو تو اسے چھوڑ دو راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا: پھر میں اسے چھوڑتا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم مجھے کسی ایسے فرد کے بارے میں بتاؤ جسے میں اس کا نگران مقرر کر دوں میں نے وفد میں سے ایک شخص کے بارے میں آپ کی خدمت میں گزارش کی ، تو آپ نے اسے امیر مقرر کر دیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا ایک کنواں ہے ، جب سردی کا موسم ہو تو اس کا پانی ہمارے لئے کفایت کر جاتا ہے ہم اس کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن جب گرمی کا موسم آتا ہے ، تو اس کا پانی تھوڑا ہو جاتا ہے ، اور ہم اپنے ارد گرد مختلف پانیوں کی طرف بکھر جاتے ہیں پہلے ایسا ہوتا تھا ، لیکن اب ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ ہم ادھر ادھر بکھر جائیں کیونکہ ہمارے ہر طرف دشمن موجود ہے آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ اس کا پانی ہمارے لئے کفایت کر جائے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کنکریاں لیں انہیں اپنی ہتھیلی پر پھیلایا اور پھر ارشاد فرمایا جب تم اس کنویں کے پاس جاؤ تو اللہ کا نام لے کر ایک ایک کنکری اس میں ڈالتے جانا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے بعد ان لوگوں کو بھی اس کنویں کی نچلی تہہ نظر نہیں آئی ( یعنی اس کے بعد وہ ہمیشہ پانی سے بھرا رہتا تھا ) ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سنن میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، اور وہ ضعیف ہے أحمد بن صالح نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس شخص کے قول کو مسترد کیا ہے جس نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، اور وہ ضعیف ہے أحمد بن صالح نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس شخص کے قول کو مسترد کیا ہے جس نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9032
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ جَاءَ عَلِيٌّ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ : إِنَّكَ مَحْبُوبٌ فِي النَّاسِ ، فَسِرْ إِلَى الشَّامِ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : بِقَرَابَتِي وَصُحْبَتِي لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالرَّحِمِ الَّتِي بَيْنَنَا ، فَلَمْ يُعَاوِدْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ، اور بولے : لوگوں میں تم پسندیدہ شخصیت کے مالک ہو تم شام کی طرف جاؤ ( اور لوگوں کو میری اطاعت کی ترغیب دو ) تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی قرابت اور اپنے صحابی ہونے اور ہمارے درمیان موجود رشتے داری کا واسطہ ہے کہ میں ایسا نہیں کروں گا ) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوبارہ انہیں نہیں کہا: ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ۔