حدیث نمبر: 9040
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَعْمَلَ بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ عَلَى صَدَقَاتِ هَوَازِنَ فَتَخَلَّفَ بِشْرٌ فَلَقِيَهُ عُمَرُ قَالَ : مَا خَلَّفَكَ أَمَا لَنَا سَمْعٌ وَطَاعَةٌ ؟ قَالَ : بَلَى وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مَنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ ، فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَجَا ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " . ¤ قَالَ : فَخَرَجَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - كَئِيبًا حَزِينًا فَلَقِيَهُ أَبُو ذَرٍّ فَقَالَ : مَا لِي أَرَاكَ كَئِيبًا حَزِينًا ؟ فَقَالَ : مَا لِي لَا أَكُونُ كَئِيبًا حَزِينًا ، وَقَدْ سَمِعْتُ بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَجَا ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " . ¤ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : وَمَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ وَلِيَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَجَا وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ " . ¤ فَأَيُّ الْحَدِيثَيْنِ أَوْجَعُ لِقَلْبِكَ ؟ قَالَ : كِلَاهُمَا قَدْ أَوْجَعَ قَلْبِي ، فَمَنْ يَأْخُذُهَا بِمَا فِيهَا ؟ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : مَنْ سَلَتَ اللَّهُ أَنْفَهُ ، وَأَلْصَقَ خَدَّهُ بِالْأَرْضِ ، أَمَّا إِنَّا لَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا ، وَعَسَى إِنْ وَلَّيْتَهَا مَنْ لَا يَعْدِلُ فِيهَا أَنْ لَا يَنْجُو مِنْ إِثْمِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بشر بن عاصم کو ہوازن کے صدقات وصول کرنے کا اہلکار مقرر کیا ۔ بشر وہاں نہیں گئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی ، تو انہوں نے دریافت کیا : تم کیوں نہیں گئے ؟ کیا تم پر اطاعت و فرمانبرداری لازم نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی بھی چیز کا نگران بنے گا اسے قیامت کے دن لایا جائے گا ، اور اسے جہنم کے پل پر کھڑا کیا جائے گا ، اگر وہ اچھائی کرنے والا ہو گا ، تو نجات پا جائے گا ، اگر وہ برائی کرنے والا ہو گا ، تو وہ پل اسے نیچے گرا دے گا ، اور وہ ستر برس تک جہنم میں گرتا رہے گا “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے غمگین اور پریشان ہو کر نکلے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے کہا: کیا وجہ ہے میں آپ کو غمگین اور پریشان دیکھ رہا ہوں انہوں نے فرمایا : میں کیوں غمگین اور پریشان نہ ہوؤں جبکہ میں نے بشر بن عاصم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی چیز کا نگران بنے گا اسے قیامت کے دن لایا جائے گا ، اور جہنم کے پل پر کھڑا کر دیا جائے گا ، اگر وہ اچھائی کرنے والا ہو گا ، تو اس سے نجات پا جائے گا ، اور اگر وہ برائی کرنے والا ہو گا ، تو وہ پل ایسے نیچے گرا دے گا ، اور وہ شخص جہنم میں ستر برس تک گرتا رہے گا “ ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات نہیں سنی ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص لوگوں میں سے کسی ایک کے معاملے کا نگران بنے گا ، تو اسے قیامت کے دن لایا جائے گا یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے جہنم کے پل پر ٹھہرا دیا جائے گا ، اگر وہ اچھائی کرنے والا ہوا ، تو نجات پا جائے گا ، اور اگر وہ برائی کرنے والا ہوا ، تو وہ پل اُسے نیچے گرا دے گا ، اور وہ شخص جہنم میں ستر برس تک گرتا رہے گا ، اور وہ جہنم سیاہ تاریک ہے “ ۔ ( سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ) ان دو روایت میں سے کون سی آپ کے لئے زیادہ پریشانی کا باعث ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان دونوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے اس ( حکومت ) میں جو خرابی پائی جاتی ہے ، تو پھر کون اس کو حاصل کرے گا ، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” وہ شخص کہ جس کی ناک کو اللہ تعالیٰ نے کاٹ دیا ہو ، اور جس کے رخسار کو زمین سے ملا دیا ہو جہاں تک ہمارا تعلق ہے ، تو ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے اور عنقریب اس کا نگران وہ شخص بنے گا ، جو اس کے بارے میں نہ عدل سے کام لے گا ، اور نہ ہی اس کے گناہ سے نجات پائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9040
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1219)»