حدیث نمبر: 9034
وَعَنْ عُبَادَة‍َ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشْرَةٍ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةً يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ ، حَتَّى يُطْلِقَهُ الْحَقُّ أَوْ يُوثِقَهُ ، وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ أَجْذَمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ، دس آدمیوں کا امیر ہو گا وہ بھی جب قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ حق اسے آزاد کروا دے گا یا ( ظلم ) اسے بندھوائے رکھے گا ، اور جو شخص قرآن سیکھے اور پھر اسے بھول جائے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو وہ جذام زدہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9034
درجۂ حدیث محدثین: قال شعيب الارناؤط : صحيح لغيره دون قوله: ومن تعلم القرآن... إلخ
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (323/5)»