حدیث نمبر: 9043
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ وَلِيَ عَشْرَةً فَحَكَمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَحَبُّوا أَوْ كَرِهُوا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةٌ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَإِنْ كَانَ حَكَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ، وَلَمْ يَحِفْ فِي حُكْمٍ وَلَمْ يَرْتَشِ أُطْلِقَتْ يَمِينُهُ " . ¤ فَقَالَ بَعْضُ جُلَسَاءِ عَطَاءٍ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ وَمَا بُدُّ مِنْ غُلٍّ ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ هَذِهِ الْبِنْيَةِ . وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْكَعْبَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دس آدمیوں کا نگران بنتا ہے ، اور ان کے درمیان ایسا فیصلہ دیتا ہے ، جسے وہ پسند کرتے ہیں یا جسے وہ ناپسند کرتے ہیں ، تو اس شخص کو قیامت کے دن لایا جائے گا ، تو اس شخص کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوئے ہوں گے اگر اس نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ دیا ہو گا ، اور فیصلہ دینے میں کوئی زیادتی نہیں کی ہو گی ۔ اور رشوت نہیں لی ہو گی ، تو اس کو کھول دیا جائے گا “ اس وقت عطاء کے پاس بیٹھے ہوئے افراد میں سے کسی نے کہا: اے ابومحمد پھر تو ملاوٹ ( یا زیادتی ) کی کوئی گنجائش نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اس عمارت کے پروردگار کی قسم ! انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے خانہ کعبہ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9043
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف