کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو یہ نذر مانتا ہے کہ وہ پیدل حج کو جائے گا ، یا اپنی ناک چھیدوا لے گا یا اس کے علاوہ کوئی اور ( نذر مانتا ہے )
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ قَالَ : " مُرْ أُخْتَكَ أَنْ تَرْكَبَ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " بَدَنَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ ان کی بہن نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ پیدل چل کر بیت اللہ تک جائے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنی بہن سے یہ کہو : کہ وہ سوار ہو جائے اور قربانی کا جانور ساتھ لے جائے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” قربانی کا جانور “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6967
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (2134)»
وَعَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ قَالَ : " مُرْ أُخْتَكَ أَنْ تَرْكَبَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ أُخْتِكَ نَفْسَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَالْبُخَارِيُّ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میری بہن نے یہ نذر مانی ہے ، وہ پیدل چل کر بیت اللہ تک جائے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی بہن سے کہو کہ وہ سوار ہو جائے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس چیز سے بے نیاز ہے کہ تمہاری بہن اپنے آپ کو عذاب کا شکار کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ علی بن مدینی نے ضعیف قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اس کی توثیق کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6968
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2737) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1229) اخرجه احمد فى المسند (253,239/1 ,310 311 315 )»
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : مَا قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطِيبًا إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ ، قَالَ : وَقَالَ : " أَلَا إِنَّ مِنَ الْمُثْلَةِ أَنْ يَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْزِمَ أَنْفَهُ ، أَلَا وَإِنَّ مِنَ الْمُثْلَةِ أَنْ يَنْذُرُ الرَّجُلُ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا فَلْيُهْدِ هَدْيًا وَلِيَرْكَبْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ : خَزْمُ الْأَنْفِ ، وَالْحَجُّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَلَفْظُ الطَّبَرَانِيِّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ ، وَيَقُولُ : " إِنَّ الْمُثْلَةَ أَنْ يَحْلِفَ الرَّجُلُ أَنْ يَحُجَّ مَقْرُونًا أَوْ مَاشِيًا ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ لِيَرْكَبْ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، تو آپ نے ہمیں صدقہ دینے کا حکم دیا اور ہمیں مثلہ کرنے سے منع کیا آپ نے ایک مرتبہ یہ ارشاد فرمایا : مثلہ کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی یہ نذر مانے کہ وہ اپنے ناک میں سوراخ کر لے گا ، خبردار ! مثلہ کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی یہ نذر مانے کہ آدمی پیدل چل کر حج کے لئے جائے گا آدمی کو چاہیے ( کہ ایسی صورت حال میں ) وہ قربانی کا جانور ساتھ لے کے جائے اور سوار ہو جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں ناک چھیدوانے اور پیدل چلنے کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام طبرانی کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ کرنے سے منع کیا ہے آپ نے یہ فرمایا ہے : ” مثلہ کرنے میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی یہ حلف اٹھا لے کہ وہ رسی میں بندھ کر ، یا پیدل چل کر حج کے لئے جائے گا اور جو شخص اس طرح کی کسی چیز کا حلف اٹھا لیتا ہے ، تو اسے اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہیے اور پھر سوار ہو جانا چاہیے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6969
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1537) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1329) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (157/18 و 158) اخرجه احمد فى المسند (429/4 (439)»
وَعَنْ بِشْرٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ فَرُدَّ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَالُهُ وَوَلَدُهُ ، ثُمَّ لَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَآهُ هُوَ وَابْنَهُ طَلْقًا مَقْرُونَيْنِ بِالْحَبْلِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا بِشْرُ ؟ " قَالَ : حَلَفْتُ لَئِنْ رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ مَالِي وَوَلَدِي لَأَحُجَّنَّ بَيْتَ اللَّهِ مَقْرُونًا . فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَبْلَ فَقَطَعَهُ ، وَقَالَ لَهُمَا : " حُجَّا ، فَإِنَّ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بشر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مال اور ان کے بچے انہیں واپس کر دیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کے بیٹے کو دیکھا کہ وہ دونوں ایک رسی میں بندھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے بشر ! اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے یہ حلف اٹھایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرا مال اور میری اولاد مجھے واپس کروا دیے تو میں رسی میں بندھ کر بیت اللہ کے حج کے لئے جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رسی پکڑ کر اسے کاٹ دیا اور ان دونوں سے فرمایا : تم دونوں حج کے لئے جاؤ ! یہ چیز شیطان کی طرف سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6970
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف