کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: جو شخص اپنی نذر میں ، عبادت اور اس کے علاوہ دوسرے پہلو کو ملا لیتا ہے
❮
❯
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَاقَتِي وَكَيْتَ وَكَيْتَ قَالَ : " أَمَّا نَاقَتُكَ فَانْحَرْهَا ، وَأَمَّا كَيْتَ وَكَيْتَ فَمِنَ الشَّيْطَانِ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : میں نے یہ نذر مانی ہے کہ میں اپنی اونٹنی کو قربان کروں گا اور فلاں فلاں کام کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہاری اونٹنی کا تعلق ہے ، تو تم اسے قربان کر دو ، جہاں تک فلاں ، فلاں چیز کا تعلق ہے ، تو وہ شیطان کی طرف سے ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6965
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (130/23) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 690»
وَعَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَسْجِدَ ، وَأَبُو إِسْرَائِيلَ يُصَلِّي . قِيلَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا يَقْعُدُ ، وَلَا يُكَلِّمُ النَّاسَ ، وَلَا يَسْتَظِلُّ ، وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَقْعُدْ وَلْيُكَلِّمِ النَّاسَ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَصُمْ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ قَالَ : رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " مَا لَهُ ؟ " قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَقُومَ فِي الشَّمْسِ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابواسرائیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے سیدنا ابواسرائیل رضی اللہ عنہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی : یا رسول اللہ ! یہ وہ شخص ہے ، جو بیٹھتا نہیں ہے اور لوگوں کے ساتھ کلام نہیں کرتا اور سائے میں نہیں بیٹھتا اور اس کا روزہ رکھنے کا بھی ارادہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے بیٹھ جانا چاہیے ، لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے سائے میں آ جانا چاہیے اور روزہ رکھ لینا چاہیے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا ابواسرائیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا وہ دھوپ میں کھڑے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ اس نے یہ نذر مانی ہے کہ یہ دھوپ میں کھڑا رہے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6966
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (391/22) اخرجه احمد فى المسند (168/4) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 17078، 6936، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10930»