مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ : فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا أَوْ يَخْزِمَ أَنْفَهُ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ . باب: اس شخص کا بیان ، جو یہ نذر مانتا ہے کہ وہ پیدل حج کو جائے گا ، یا اپنی ناک چھیدوا لے گا یا اس کے علاوہ کوئی اور ( نذر مانتا ہے )
حدیث نمبر: 6968
وَعَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ قَالَ : " مُرْ أُخْتَكَ أَنْ تَرْكَبَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ أُخْتِكَ نَفْسَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَالْبُخَارِيُّ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میری بہن نے یہ نذر مانی ہے ، وہ پیدل چل کر بیت اللہ تک جائے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی بہن سے کہو کہ وہ سوار ہو جائے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس چیز سے بے نیاز ہے کہ تمہاری بہن اپنے آپ کو عذاب کا شکار کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ علی بن مدینی نے ضعیف قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اس کی توثیق کی ہے ۔