حدیث نمبر: 6970
وَعَنْ بِشْرٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ فَرُدَّ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَالُهُ وَوَلَدُهُ ، ثُمَّ لَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَآهُ هُوَ وَابْنَهُ طَلْقًا مَقْرُونَيْنِ بِالْحَبْلِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا بِشْرُ ؟ " قَالَ : حَلَفْتُ لَئِنْ رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ مَالِي وَوَلَدِي لَأَحُجَّنَّ بَيْتَ اللَّهِ مَقْرُونًا . فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَبْلَ فَقَطَعَهُ ، وَقَالَ لَهُمَا : " حُجَّا ، فَإِنَّ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بشر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مال اور ان کے بچے انہیں واپس کر دیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کے بیٹے کو دیکھا کہ وہ دونوں ایک رسی میں بندھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے بشر ! اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے یہ حلف اٹھایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرا مال اور میری اولاد مجھے واپس کروا دیے تو میں رسی میں بندھ کر بیت اللہ کے حج کے لئے جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رسی پکڑ کر اسے کاٹ دیا اور ان دونوں سے فرمایا : تم دونوں حج کے لئے جاؤ ! یہ چیز شیطان کی طرف سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6970
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف