کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو یہ نذر مانتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ، یا اپنی اولاد کو ذبح کر دے گا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَأُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ يُرِيدُ الْجِهَادَ وَأُمُّهُ تَمْنَعُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عِنْدَ أُمِّكَ قِرَّ ، فَإِنَّ لَكَ مِنَ الْأَجْرِ عِنْدَهَا مِثْلَ مَا لَكَ فِي الْجِهَادِ " .
وَجَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِي فَشُغِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ الرَّجُلُ [ وَأُمُّهُ ] فَوُجِدَ [ يُرِيدُ أَنْ ] يَنْحَرُ نَفْسَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مَنْ يُوفِي بِالنَّذْرِ وَيَخَافُ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا . هَلْ لَكَ مَالٌ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " أَهْدِ مِائَةَ نَاقَةٍ وَاجْعَلْهَا فِي ثَلَاثِ سِنِينَ ، فَإِنَّكَ لَا تَجِدُ مَنْ يَأْخُذُهَا مِنْكَ مَعًا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا جِدًّا .
وَجَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِي فَشُغِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ الرَّجُلُ [ وَأُمُّهُ ] فَوُجِدَ [ يُرِيدُ أَنْ ] يَنْحَرُ نَفْسَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مَنْ يُوفِي بِالنَّذْرِ وَيَخَافُ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا . هَلْ لَكَ مَالٌ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " أَهْدِ مِائَةَ نَاقَةٍ وَاجْعَلْهَا فِي ثَلَاثِ سِنِينَ ، فَإِنَّكَ لَا تَجِدُ مَنْ يَأْخُذُهَا مِنْكَ مَعًا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا جِدًّا .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص اور اس کی ماں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ شخص جہاد کے لئے جانا چاہ رہا تھا اور اس کی ماں اسے روک رہی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی ماں کے پاس ٹھہرے رہو ، کیونکہ تمہیں ماں کے پاس رہ کر اتنا ہی اجر ملے گا ، جتنا اجر تمہیں جہاد میں حصہ لے کر ملے گا ۔ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا: میں نے یہ نذر مانی ہے کہ میں اپنے آپ کو قربان کر دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ دوسری طرف تھی ، وہ شخص اور اس کی ماں چلے گئے ، پھر وہ شخص اس حال میں پایا گیا کہ وہ اپنے آپ کو قربان کرنا چاہتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کیے ہیں ، جو نذر کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں ، جس کا ” شر “ ( یعنی سختی اور پریشانی ) پھیلا ہوا ہو گا ، کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایک سو اونٹنیاں قربانی کے لئے لے کے جاؤ ، اور تین سالوں میں ایسا کرنا ، کیونکہ ایک سال میں تو تمہیں لینے والا کوئی ملے گا نہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ لَأَذْبَحَنَّ نَفْسِي . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ .
محمد محی الدین
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا: میں نے یہ نذر مانی ہے کہ میں اپنے آپ کو ذبح کر دوں گا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تمہارے لئے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْكَبِيرِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَنْ نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ أَوْ وَلَدَهُ فَلْيَذْبَحْ كَبْشًا . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
ایک روایت جو معجم کبیر میں مذکور ہے ، اس میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول منقول ہے : جو شخص یہ نذر مانتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو یا اپنے بچے کو قربان کرے گا اسے دنبہ ذبح کر دینا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔