کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: کس چیز کے ذریعے حلف اٹھایا جائے اور غیراللہ کے نام پر حلف اٹھانے کی ممانعت
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ قَالَ : " أَنْتَ رَسُولِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ . قُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ : لَا تَحْلِفُوا بِغَيْرِ اللَّهِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تو ارشاد فرمایا : تم اہل مکہ کی طرف میرے قاصد ہو تم یہ بتا دینا کہ اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو سلام کہا: ہے اور تمہیں تین چیزوں کا حکم دیا ہے تم غیر اللہ کے نام پر حلف نہ اٹھانا اس کے بعد راوی نے پوری ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِيتِ ، وَلَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَاحْلِفُوا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : " وَاحْلِفُوا بِاللَّهِ ، فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ أَنْ تَحْلِفُوا بِهِ . وَلَا تَحْلِفُوا بِحَلِفِ الشَّيْطَانِ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَسَاتِيرُ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بتوں کے نام پر حلف نہ اٹھاؤ ، اپنے باپ دادا کے نام پر حلف نہ اٹھاؤ ، اللہ کے نام پر حلف اٹھاؤ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اللہ کے نام پر حلف اٹھاؤ ، کیونکہ اسے یہ بات پسند ہے کہ تم لوگ اس کے نام پر حلف اٹھاؤ ، اور تم شیطان کے حلف کے مطابق حلف نہ اٹھاؤ “ ۔ امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں ، اور امام بزار کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اللہ کے نام پر حلف اٹھاؤ ، کیونکہ اسے یہ بات پسند ہے کہ تم لوگ اس کے نام پر حلف اٹھاؤ ، اور تم شیطان کے حلف کے مطابق حلف نہ اٹھاؤ “ ۔ امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں ، اور امام بزار کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَهُوَ كَمَا قَالَ . إِنْ قَالَ : إِنِّي يَهُودِيٌّ فَهُوَ يَهُودِيٌّ . وَإِنْ قَالَ : إِنِّي نَصْرَانِيٌّ فَهُوَ نَصْرَانِيٌّ . وَإِنْ قَالَ : إِنِّي مَجُوسِيٌّ فَهُوَ مَجُوسِيٌّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قسم اٹھاتے ہوئے حلف اٹھاتا ہے ، تو وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے ، جیسا اس نے کہا: ہو ، اگر اس نے یہ کہا: ہو : کہ میں یہودی ہو جاؤں ، تو وہ یہودی ہو گا ، اور اگر اس نے یہ کہا: ہو کہ میں عیسائی ہوں تو وہ عیسائی ہو گا اور اگر اس نے یہ کہا: ہو کہ میں مجوسی ہوں تو وہ مجوسی ہو گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیس بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیس بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : نِعْمَ الْأُمَّةُ أُمَّتُكَ لَوْلَا أَنَّهُمْ يَعْدِلُونَ . فَقَالَ : " كَيْفَ يَعْدِلُونَ ؟ " . قَالَ : يَقُولُونَ : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ . قَالَ : " قُولُوا : ثُمَّ شِئْتَ " . ¤ وَقَالَ أَيْضًا : نِعْمَ الْأُمَّةُ أُمَّتُكَ لَوْلَا أَنَّهُمْ يُشْرِكُونَ . قَالَ : يَقُولُونَ بِحَقِّ فُلَانٍ وَبِحَيَاةِ فُلَانٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: آپ کی امت اچھی امت ہے اگر وہ لوگ برابر نہ کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ کیسے برابر کرتے ہیں ؟ اس نے بتایا وہ لوگ یہ کہتے ہیں : جو اللہ نے چاہا اور جو آپ نے چاہا ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ یہ کہو : ” پھر آپ نے چاہا “ ۔ اس نے یہ بھی کہا: آپ کی امت اچھی امت ہے ، اگر وہ لوگ شرک نہ کریں ، اس نے بتایا کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں کے حق کی وجہ سے اور فلاں کی زندگی کی وجہ سے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے حلف اٹھانا ہو ، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا حلف اٹھائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَأَنْ أَحْلِفَ بِاللَّهِ كِاذِبًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ بِغَيْرِهِ وَأَنَا صَادِقٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اللہ کے نام پر جھوٹی قسم اٹھا لوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں اس کے غیر کے نام پر سچی قسم اٹھا لوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَا تَحْلِفُوا بِحَلِفِ الشَّيْطَانِ أَنْ يَقُولَ أَحَدُكُمْ : وَعِزَّةِ اللَّهِ . وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ : [ اللَّهُ ] رَبُّ الْعِزَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم شیطان کے حلف کے مطابق حلف نہ اٹھاؤ کہ تم میں سے کوئی ایک شخص یہ کہے : اللہ کی عزت کی قسم ہے ، بلکہ تم اس طرح کہو جس طرح اللہ نے فرمایا : ہے : اللہ رب العزت ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔