حدیث نمبر: 6898
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : نِعْمَ الْأُمَّةُ أُمَّتُكَ لَوْلَا أَنَّهُمْ يَعْدِلُونَ . فَقَالَ : " كَيْفَ يَعْدِلُونَ ؟ " . قَالَ : يَقُولُونَ : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ . قَالَ : " قُولُوا : ثُمَّ شِئْتَ " . ¤ وَقَالَ أَيْضًا : نِعْمَ الْأُمَّةُ أُمَّتُكَ لَوْلَا أَنَّهُمْ يُشْرِكُونَ . قَالَ : يَقُولُونَ بِحَقِّ فُلَانٍ وَبِحَيَاةِ فُلَانٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: آپ کی امت اچھی امت ہے اگر وہ لوگ برابر نہ کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ کیسے برابر کرتے ہیں ؟ اس نے بتایا وہ لوگ یہ کہتے ہیں : جو اللہ نے چاہا اور جو آپ نے چاہا ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ یہ کہو : ” پھر آپ نے چاہا “ ۔ اس نے یہ بھی کہا: آپ کی امت اچھی امت ہے ، اگر وہ لوگ شرک نہ کریں ، اس نے بتایا کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں کے حق کی وجہ سے اور فلاں کی زندگی کی وجہ سے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے حلف اٹھانا ہو ، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا حلف اٹھائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6898
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10468)»