کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو زمین کے ( حد بندی کے ) نشانات تبدیل کر دے
حدیث نمبر: 6893
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَفَرَى الْفِرَى : مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، وَأَفْرَى الْفِرَى : مَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ [ فِي النَّوْمِ ] مَا لَمْ تَرَ، وَمَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " مَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تَرَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ، اور سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی آنکھوں کو نیند میں وہ چیز دکھائے جو انہوں نے نہ دیکھی ہو ( یعنی جھوٹا خواب بیان کرے ) اور جو شخص زمین کے ( حد بندی کے ) نشانات تبدیل کر دے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا یہ حصہ منقول ہے : ” جو شخص اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے ، جو انہوں نے نہ دیکھی ہو“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے : ابوعثمان نے اسے عبداللہ بن دینار سے روایت کیا ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6893
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5998)»
حدیث نمبر: 6894
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص زمین کے ( حد بندی کے ) نشان تبدیل کرتا ہے ، اس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کا غضب ہو گا ، اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6894
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً