کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: تحفے کا ثواب ، تعریف کرنا اور بدلہ دینا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِبَةً فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا ، قَالَ : " أَرَضِيتَ ؟ " قَالَ : لَا . فَزَادَهُ . قَالَ : " أَرَضِيتَ ؟ " . قَالَ : لَا . فَزَادَهُ . قَالَ : " أَرَضِيتَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ ، أَوْ ثَقَفِيٍّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَقَالَ : إِنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى بَدَلَ "وَهَبَ" ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : وَهَبَ نَاقَةً ، فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلے میں اسے کچھ دیا اور اس سے دریافت کیا : کیا تم راضی ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید دیا ، اور دریافت کیا : کیا تم راضی ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید دیا اور دریافت کیا : کیا تم راضی ہو گئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے یہ طے کیا ہے کہ آئندہ میں صرف کسی قریشی ، یا انصاری ، یا ثقفی شخص سے کوئی چیز قبول کروں گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے ہدیہ کے طور پر پیش کیا ، انہوں نے لفظ ” ہبہ “ کی جگہ یہ لفظ استعال کیا ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ یہ الفاظ نقل کرتے ہیں : اس نے ایک اونٹنی ہبہ کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدلے میں کچھ دیا ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6730
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1938 و 1939)، اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10897) اخرجه احمد فى المسند (2687)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا ، وَكَانَ يُهْدِي لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُكَّةَ مِنَ السَّمْنِ ، وَالْعُكَّةَ مِنَ الْعَسَلِ ، فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا يَتَقَاضَاهُ جَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِ هَذَا ثَمَنَ مَتَاعِهِ . فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَنْ يَتَبَسَّمَ وَيَأْمُرَ بِهِ فَيُعْطَى . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا لقب ” حمار “ تھا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی کی کپی اور شہد کی کپی تحفے میں دی ، جب اس سے متعلقہ فرد آیا ( یعنی جس سے اس نے وہ چیزیں خریدی تھیں ) اور اس نے اس سے تقاضا کیا ، تو وہ شخص اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور بولا: یا رسول اللہ ! آپ اس سامان کی قیمت عطا کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ، اور پھر اسے ادائیگی کا حکم دیا ، تو اسے ادائیگی کر دی گئی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6731
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ أُمِّ سُنْبُلَةَ قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ ، فَأَبَيْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْخُذْنَهَا ، وَقُلْنَ : إِنَّا لَا نَأْخُذُ هَدِيَّةً . فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " خُذُوا هَدِيَّةَ أُمِّ سُنْبُلَةَ فَهِيَ أُمُّ بَادِيَتِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَضْرَتِهَا " . وَأَعْطَاهَا وَادِيَ كَذَا وَكَذَا فَاشْتَرَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مِنْهُمْ ، فَأَعْطَاهَا ذَوْدًا ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ قَيْظِيٍّ : فَرَأَيْتُ بَعْضَهَا . قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : قُلْتُ لِزَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ : مَنْ أَعْطَاهَا ؟ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ قَيْظِيٍّ ، وَتَابَعُوهُ ، وَفِيهِ ثَلَاثَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفہ لے کے آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے اسے لینے سے انکار کر دیا ، انہوں نے کہا: ہم کوئی ہدیہ نہیں لیں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ام سنبلہ کا ہدیہ لے لو ! کیونکہ وہ ہماری دیہاتن ہے ، اور ہم اس کے شہری ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو فلاں وادی عطا کر دی ، وہ جگہ عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی بن ابوطالب نے ( اس خاتون کی اولاد ) سے خریدی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اونٹ بھی دیا تھا ۔ عمرو بن قینطی بیان کرتے ہیں : میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے زید بن حباب سے دریافت کیا : اس خاتون کو کس نے وہ دیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن قینطی ہے ، لوگوں نے اس کی متابعت کی ہے اور اس کی سند میں تین راوی ایسے ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6732
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1940 و1941) اخرجه أبو يعلى فى المسند (4773) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (163/25)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَبَنًا فَلَمْ تَجِدْهُ ، فَقُلْتُ لَهَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ . فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ فَقَالَ : " مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ ؟ " قَالَتْ : لَبَنٌ أَهْدَيْتُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ " . فَسَكَبَتْ ، فَقَالَ : " نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ " . فَفَعَلَتْ ، فَقَالَ : " اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ " . فَسَكَبَتْ ، " فَنَاوِلِي عَائِشَةَ " . فَنَاوَلَتْهَا ، فَشَرِبَتْ ، فَقَالَ : " اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ " ، فَسَكَبَتْ ، فَنَاوَلَتْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَرِبَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ أَسْلَمَ وَأَبْرَدِهَا عَلَى الْكَبِدِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ كُنْتُ حَدَّثْتُ أَنَّكَ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ ! فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَعْرَابٍ هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا ، وَنَحْنُ [ أَهْلُ ] حَاضِرَتِهِمْ ، وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا ، فَلَيْسُوا بِأَعْرَابٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ام سنبلہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ تحفے کے طور پر پیش کیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ، میں نے اس سے کہا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم دیہاتیوں کا کھانا کھائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ام سنبلہ ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ اس خاتون نے عرض کی : دودھ ہے ، جو میں نے آپ کو تحفے کے طور پر دینا تھا ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے اُم سنبلہ تم پیؤ ! اس خاتون نے پی لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر کو دو ! اس نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اُم سنبلہ ! تم پی لو ، اس نے پی لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عائشہ کو پکڑاؤ ، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پکڑایا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی پی لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اُم سنبلہ تم پیؤ ! انہوں نے پی لیا ، پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پی لیا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پی رہے تھے جو کلیجے کے لئے سب سے زیادہ سلامتی والا اور سب سے زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے ، پھر سیدہ عائشہ ! نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے تو کہہ دیا تھا کہ آپ دیہاتیوں کے کھانے سے منع کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ ! یہ لوگ دیہاتی نہیں ہیں ، یہ لوگ ویرانوں کے رہنے والے ہیں اور ہم ان کے شہروں کے رہنے والے ہیں ، جب یہ بلائیں تو ان کے پاس چلے جاؤ ! یہ لوگ دیہاتی نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6733
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ فَقَبِلَهَا ، وَقَالَ : احْمِ شِعْبِي . فَحَمَاهُ ، وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عیاض بن عبداللہ ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، ایک شخص نے شہد کی کپی آپ کو تحفے کے طور پر پیش کی ، تو آپ نے اسے قبول کر لیا ، اس شخص نے عرض کی : آپ مجھے میری گھاٹی چراگاہ کے طور پر عطا کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اُسے چراگاہ کے طور پر عطا کر دی ، اور اس کے لئے ایک تحریر بھی لکھوا دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6734
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (369/17)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَمَنْ أَهْدَى [ كُرَاعًا ] فَكَافِئُوهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ایک پایا بھی تحفے کے طور پر دے ، تو تم اسے بدلہ دو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام بزار نے حدیث کے درمیان میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6735
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1942)»
وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَّاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا جَزَاءُ الْغَنِيِّ مِنَ الْفَقِيرِ ؟ قَالَ : " النَّصِيحَةُ ، وَالدُّعَاءُ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَكْرَهُ رَدَّ اللَّطَفِ ؟ قَالَ : " مَا أَقْبَحَهُ ، لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى ذِرَاعٍ لَأَجَبْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب کی طرف سے خوشحال کی جزا کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خیرخواہی اور دعا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ تحفے کو واپس کرنے کو ناپسند کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کتنی بری بات ہے ، اگر مجھے ایک پایا بھی تحفے کے طور پر دیا جائے ، تو میں قبول کر لوں گا ، اور اگر مجھے ایک دستی کی دعوت دی جائے ، تو میں وہ قبول کر لوں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6736
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (162/25)»
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَتَاهُ مَعْرُوفٌ ، فَذَكَرَهُ ، فَقَدْ شَكَرَهُ ، وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يَنَلْ فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جس شخص کے پاس بھلائی آئے ( یعنی کوئی اُس کے ساتھ بھلائی کرے ) اور وہ اس کا ذکر کر دے ، تو گویا اس نے اس کا شکریہ ادا کر دیا ، اور جو شخص خود کو کسی ایسی چیز کے ذریعے آراستہ ظاہر کرے ، جو اسے نہیں ملی ، تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6737
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1943)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص اپنے بھائی سے یہ کہے : ” اللہ تعالی تمہیں جزائے خیر عطا کرے “ تو اس نے پوری تعریف کر دی“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6738
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1944)»