حدیث نمبر: 6730
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِبَةً فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا ، قَالَ : " أَرَضِيتَ ؟ " قَالَ : لَا . فَزَادَهُ . قَالَ : " أَرَضِيتَ ؟ " . قَالَ : لَا . فَزَادَهُ . قَالَ : " أَرَضِيتَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ ، أَوْ ثَقَفِيٍّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَقَالَ : إِنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى بَدَلَ "وَهَبَ" ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : وَهَبَ نَاقَةً ، فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلے میں اسے کچھ دیا اور اس سے دریافت کیا : کیا تم راضی ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید دیا ، اور دریافت کیا : کیا تم راضی ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید دیا اور دریافت کیا : کیا تم راضی ہو گئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے یہ طے کیا ہے کہ آئندہ میں صرف کسی قریشی ، یا انصاری ، یا ثقفی شخص سے کوئی چیز قبول کروں گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے ہدیہ کے طور پر پیش کیا ، انہوں نے لفظ ” ہبہ “ کی جگہ یہ لفظ استعال کیا ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ یہ الفاظ نقل کرتے ہیں : اس نے ایک اونٹنی ہبہ کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدلے میں کچھ دیا ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6730
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1938 و 1939)، اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10897) اخرجه احمد فى المسند (2687)»