حدیث نمبر: 6733
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَبَنًا فَلَمْ تَجِدْهُ ، فَقُلْتُ لَهَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ . فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ فَقَالَ : " مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ ؟ " قَالَتْ : لَبَنٌ أَهْدَيْتُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ " . فَسَكَبَتْ ، فَقَالَ : " نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ " . فَفَعَلَتْ ، فَقَالَ : " اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ " . فَسَكَبَتْ ، " فَنَاوِلِي عَائِشَةَ " . فَنَاوَلَتْهَا ، فَشَرِبَتْ ، فَقَالَ : " اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ " ، فَسَكَبَتْ ، فَنَاوَلَتْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَرِبَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ أَسْلَمَ وَأَبْرَدِهَا عَلَى الْكَبِدِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ كُنْتُ حَدَّثْتُ أَنَّكَ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ ! فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَعْرَابٍ هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا ، وَنَحْنُ [ أَهْلُ ] حَاضِرَتِهِمْ ، وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا ، فَلَيْسُوا بِأَعْرَابٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ام سنبلہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ تحفے کے طور پر پیش کیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ، میں نے اس سے کہا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم دیہاتیوں کا کھانا کھائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ام سنبلہ ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ اس خاتون نے عرض کی : دودھ ہے ، جو میں نے آپ کو تحفے کے طور پر دینا تھا ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے اُم سنبلہ تم پیؤ ! اس خاتون نے پی لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر کو دو ! اس نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اُم سنبلہ ! تم پی لو ، اس نے پی لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عائشہ کو پکڑاؤ ، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پکڑایا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی پی لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اُم سنبلہ تم پیؤ ! انہوں نے پی لیا ، پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پی لیا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پی رہے تھے جو کلیجے کے لئے سب سے زیادہ سلامتی والا اور سب سے زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے ، پھر سیدہ عائشہ ! نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے تو کہہ دیا تھا کہ آپ دیہاتیوں کے کھانے سے منع کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ ! یہ لوگ دیہاتی نہیں ہیں ، یہ لوگ ویرانوں کے رہنے والے ہیں اور ہم ان کے شہروں کے رہنے والے ہیں ، جب یہ بلائیں تو ان کے پاس چلے جاؤ ! یہ لوگ دیہاتی نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6733
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح