حدیث نمبر: 6736
وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَّاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا جَزَاءُ الْغَنِيِّ مِنَ الْفَقِيرِ ؟ قَالَ : " النَّصِيحَةُ ، وَالدُّعَاءُ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَكْرَهُ رَدَّ اللَّطَفِ ؟ قَالَ : " مَا أَقْبَحَهُ ، لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى ذِرَاعٍ لَأَجَبْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب کی طرف سے خوشحال کی جزا کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خیرخواہی اور دعا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ تحفے کو واپس کرنے کو ناپسند کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کتنی بری بات ہے ، اگر مجھے ایک پایا بھی تحفے کے طور پر دیا جائے ، تو میں قبول کر لوں گا ، اور اگر مجھے ایک دستی کی دعوت دی جائے ، تو میں وہ قبول کر لوں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6736
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (162/25)»