مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ ثَوَابِ الْهَدِيَّةِ ، وَالثَّنَاءِ ، وَالْمُكَافَأَةِ . باب: تحفے کا ثواب ، تعریف کرنا اور بدلہ دینا
حدیث نمبر: 6731
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا ، وَكَانَ يُهْدِي لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُكَّةَ مِنَ السَّمْنِ ، وَالْعُكَّةَ مِنَ الْعَسَلِ ، فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا يَتَقَاضَاهُ جَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِ هَذَا ثَمَنَ مَتَاعِهِ . فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَنْ يَتَبَسَّمَ وَيَأْمُرَ بِهِ فَيُعْطَى . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا لقب ” حمار “ تھا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی کی کپی اور شہد کی کپی تحفے میں دی ، جب اس سے متعلقہ فرد آیا ( یعنی جس سے اس نے وہ چیزیں خریدی تھیں ) اور اس نے اس سے تقاضا کیا ، تو وہ شخص اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور بولا: یا رسول اللہ ! آپ اس سامان کی قیمت عطا کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ، اور پھر اسے ادائیگی کا حکم دیا ، تو اسے ادائیگی کر دی گئی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔