مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ ثَوَابِ الْهَدِيَّةِ ، وَالثَّنَاءِ ، وَالْمُكَافَأَةِ . باب: تحفے کا ثواب ، تعریف کرنا اور بدلہ دینا
وَعَنْ أُمِّ سُنْبُلَةَ قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ ، فَأَبَيْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْخُذْنَهَا ، وَقُلْنَ : إِنَّا لَا نَأْخُذُ هَدِيَّةً . فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " خُذُوا هَدِيَّةَ أُمِّ سُنْبُلَةَ فَهِيَ أُمُّ بَادِيَتِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَضْرَتِهَا " . وَأَعْطَاهَا وَادِيَ كَذَا وَكَذَا فَاشْتَرَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مِنْهُمْ ، فَأَعْطَاهَا ذَوْدًا ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ قَيْظِيٍّ : فَرَأَيْتُ بَعْضَهَا . قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : قُلْتُ لِزَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ : مَنْ أَعْطَاهَا ؟ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ قَيْظِيٍّ ، وَتَابَعُوهُ ، وَفِيهِ ثَلَاثَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفہ لے کے آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے اسے لینے سے انکار کر دیا ، انہوں نے کہا: ہم کوئی ہدیہ نہیں لیں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ام سنبلہ کا ہدیہ لے لو ! کیونکہ وہ ہماری دیہاتن ہے ، اور ہم اس کے شہری ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو فلاں وادی عطا کر دی ، وہ جگہ عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی بن ابوطالب نے ( اس خاتون کی اولاد ) سے خریدی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اونٹ بھی دیا تھا ۔ عمرو بن قینطی بیان کرتے ہیں : میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے زید بن حباب سے دریافت کیا : اس خاتون کو کس نے وہ دیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن قینطی ہے ، لوگوں نے اس کی متابعت کی ہے اور اس کی سند میں تین راوی ایسے ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔