کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس چیز کو ہبہ کرنا ، جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی
حدیث نمبر: 6739
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا دَعَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُوسَى صَاحِبَهُ إِلَى الْأَجَلِ الَّذِي كَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : كُلُّ شَاةٍ وَلَدَتْ عَلَى غَيْرِ لَوْنِهَا فَلَكَ وَلَدُهَا . قَالَ : فَعَمَدَ فَوَضَعَ حِبَالًا عَلَى الْمَاءِ فَلَمَّا رَأَتِ الْحِبَالَ فَزِعَتْ ، فَجَالَتْ جَوْلَةً ، فَوَلَدْنَ كُلُّهُنَّ بُرْقًا إِلَّا شَاةً وَاحِدَةً ، فَذَهَبَ بِأَوْلَادِهِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ کے نبی سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی ( شاید سیدنا شعیب علیہ السلام مراد ہیں ) کو اس مخصوص مدت کی طرف دعوت دی ، تو ان دونوں کے درمیان یہ بات طے ہوئی ، تو ان کے ساتھی نے کہا: ہر وہ بکری جو اس کے رنگ سے مختلف رنگ میں پیدا ہو گی ، اس کا بچہ آپ کا ہو گا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ بڑھے ، انہوں نے پانی پر رسیاں رکھ دیں ، جب انہوں نے رسیاں دیکھیں ، تو وہ خوف زدہ ہو گئیں اور گھومنے لگیں ، اور ان سب نے برق بچوں کو جنم دیا ( یعنی جن کی سفید روئی کے درمیان کچھ سیاہ بال تھے ) ، البتہ ایک بکری کا معاملہ مختلف تھا ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اُس سال کی اُن بکریوں کی ساری اولاد حاصل کر لی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6739
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2907 و2946)»
حدیث نمبر: 6740
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ : أَيَّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى ؟ قَالَ : " أَبَرَّهُمَا ، وَأَوْفَاهُمَا " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا أَرَادَ مُوسَى فِرَاقَ شُعَيْبٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا أَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ تَسْأَلَ أَبَاهَا أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ غَنَمِهِ مَا يَعِيشُونَ بِهِ فَأَعْطَاهَا مَا وَلَدَتْ غَنَمُهُ فِي ذَلِكَ الْعَامِ مِنْ قَالَبِ لَوْنٍ " . قَالَ : " فَمَا مَرَّتْ شَاةٌ إِلَّا ضَرَبَ مُوسَى جَنْبَيْهَا بِعَصَاهُ . فَوَلَدَتْ قَوَالِبَ أَلْوَانِهَا كُلُّهَا ، وَوَلَدَتْ ثِنْتَيْنِ وَثَلَاثِينَ ، كُلُّ شَاةٍ لَيْسَ فِيهَا فَشُوشٌ ، وَلَا ضَبُوبٌ ، وَلَا كَمِشَةٌ تَفُوتُ الْكَفَّ ، وَلَا ثَعُولٌ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا افْتَتَحْتُمُ الشَّامَ ، فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَقَايَا مِنْهَا وَهِيَ السَّامِرِيَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ السِّجِسْتَانِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دو مدتوں میں سے کون سی مدت پوری کی تھی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو زیادہ اچھائی والی اور زیادہ مکمل تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے سیدنا شعیب علیہ السلام سے جدا ہونے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے اپنی اہلیہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنے والد کو یہ درخواست کریں کہ وہ اپنی بکریوں میں سے انہیں اتنی عطا کر دیں ، جس کے ذریعے وہ لوگ رہ سکیں ، تو سیدنا شعیب علیہ السلام نے اس خاتون کو یہ کہا: جو بکری اس سال ایسے بچے کو جنم دے ، جس کا رنگ اپنی ماں کے رنگ سے مختلف ہو ( وہ انہیں مل جائے گی ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جو بھی بکری گزرتی تھی ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس کے پہلو پر اپنا عصا مارتے تھے ، تو وہ اپنے سے مختلف رنگ کے بچے کو جنم دیتی تھی ، اس نے بتیس بچوں کو جنم دیا ، ان میں کوئی بکری ایسی نہیں تھی ، جو فشوش ہو ( جس کے تھن کا سوراخ بڑا ہو اور دوہے بغیر ہی اس کا دودھ ٹپکتا رہتا ہو ) ، ضبوب ہو ( جس کے دودھ کا سوراخ تنگ ہو ) کمشہ ہو ( جس کا تھن اتنا چھوٹا ہو کہ دودھ دوہا ہی نہ جا سکے ) جو ہتھیلی کو فوت کر دے ( یعنی خالی رہنے دے ) اور نہ ( کوئی بکری ) ثعول تھی ( جس کا اضافی تھن ہو ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم شام فتح کرو گے ، تو تم ان بکریوں کی اولاد کو پالو گے اور وہ سامریہ ہوں گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمر بن خطاب سجستانی کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ، کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6740
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن