کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے زیادہ فضلیت والا صدقہ وہ ہے ، جس کے بعد آدمی خوشحال رہے ، اور تم اس پر خرچ کا آغاز کرو جس کی تم کفالت کرتے ہو ، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4640
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَجْلِسِ جَالِسًا ، وَكَانُوا يَظُنُّونَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ ، فَأَقْصَرُوا عَنْهُ حَتَّى جَاءَ أَبُو ذَرٍّ فَأَقْحَمَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، الصَّدَقَةُ مَا هِيَ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ ، وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ ، وَجُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں تشریف فرماتے تھے لوگ یہ گمان کر رہے تھے کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ۔ لوگوں نے آپ سے کوئی بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے اس کے بعد راوی نے پوری حدیث کے ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! صدقہ کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا بدلہ کئی گنا ہوتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مزید ( اجر و ثواب بھی ملے گا ) میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پوشیدہ طور پر کسی غریب کو صدقہ کرنا یا تنگ دست شخص کا محنت کر کے صدقہ کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ۔ اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4641
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7871 ) اخرجه احمد فى المسند (266 265/5)»
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الصَّدَقَةُ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّهَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ ، أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَفِيهِ أَبُو عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صدقہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا اجر کئی گنا ہوتا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس میں کون سا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : تنگ دست شخص کا محنت کر کے صدقہ کرنا یا غریب کو پوشیدہ طور پر صدقہ دینا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو دمشقی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4642
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " طُولُ الْقُنُوتِ " . قَالَ : أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جُهْدُ مُقِلٍّ " . قَالَ : أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا ؟ قَالَ : " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قتادہ بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طویل قیام والی اس نے دریافت کیا : کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تنگ دست شخص کا محنت کر کے صدقہ کرنا اس نے دریافت کیا : اہل ایمان میں سے کون ایمان کے اعتبار سے زیادہ کامل ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید ابوحاتم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4643
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الصَّدَقَةُ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ ، وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ " . ثُمَّ قَرَأَ : " ( مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ) " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ ، أَوْ جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ " . ثُمَّ قَرَأَ : ( إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ) " الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صدقہ کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اس کا اجر کئی گنا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مزید بھی ملتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ” جو شخص اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے گا اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا اجر عطا کرے گا“ ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : غریب کو پوشیدہ طور پر دینا یا تنگ دست شخص کا محنت کر کے صدقہ کرنا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اگر تم صدقات کو ظاہر کرتے ہو تو یہ اچھی بات ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4644
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7891)»
وَعَنْ حَكِيمِ بْنَ حِزَامٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " ابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو صَالِحٍ مَوْلَى حَكِيمٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اس پر خرچ کا آغاز کرو جس کی تم کفالت کرتے ہو ، اور وہ صدقہ جو کرنے کے بعد آدمی خوشحال رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابوصالح جو حکیم نامی شخص کا غلام ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4645
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3129)»
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَطْعَمَ مِسْكِينًا مِنْ جُوعٍ ، أَوْ دَفَعَ عَنْهُ مَغْرَمًا ، أَوْ كَشَفَ عَنْهُ كَرْبًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اس شخص کا ہے ، جو کسی بھوکے مسکین کو کھانا کھلاتا ہے ، یا کسی شخص کا قرض ادا کروا دیتا ہے ، یا کسی کی پریشانی ختم کروا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4646
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3187)»