کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: قریبی رشتہ داروں کو صدقہ کرنا ، عورت کا اپنے شوہر کو صدقہ کرنا
حدیث نمبر: 4647
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ الصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ اس رشتے دار کو صدقہ کرنا ہے ، جو دشمنی رکھتا ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4648
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّدَقَاتِ : أَيُّهَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقات کے بارے میں دریافت کیا : ان میں کون سا سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : دشمنی رکھنے والے رشتے دار کو ( صدقہ کرنا ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 4649
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ ، وَعَلَى ذِي الرَّحِمِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسکین کو صدقہ کرنا صدقہ ہے ، اور رشتے دار کو صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے ، اور صلہ رحمی بھی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 4650
وَعَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ الصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ دشمنی رکھنے والے رشتے دار کو صدقہ کرنا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4651
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى ذِي قَرَابَةٍ يُضَعَّفُ أَجْرُهَا مَرَّتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : رشتے دار کو صدقہ کرنے کا دگنا اجر ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4652
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَا يُعَذِّبُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ رَحِمَ الْيَتِيمَ ، وَلَانَ لَهُ فِي الْكَلَامِ ، وَرَحِمَ يُتْمَهُ وَضَعْفَهُ ، وَلَمْ يَتَطَاوَلْ عَلَى جَارِهِ بِفَضْلِ مَا آتَاهُ اللَّهُ " وَقَالَ : " يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَدَقَةً مِنْ رَجُلٍ ، وَلَهُ قَرَابَةٌ مُحْتَاجُونَ إِلَى صِلَتِهِ وَيَصْرِفُهَا إِلَى غَيْرِهِمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِالْمَتْرُوكِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کو عذاب نہیں دے گا ، جو یتیم پر رحم کرتا ہو ، اور اس کے ساتھ نرم بات کرتا ہو وہ اس کے یتیم ہونے اور کمزور ہونے پر رحم کرتا ہو ، اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو کچھ عطا کیا ہے وہ اضافی ہونے کی وجہ سے اپنے پڑوسی کے سامنے خود کو نمایاں نہ کرتا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے محمد کی اُمت ! اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اللہ تعالی کسی ایسے شخص کا صدقہ قبول نہیں کرتا جس کے رشتے دار اس کی صلہ رحمی کے محتاج ہوں اور وہ صدقہ دوسروں کو کر دے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر نہیں کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ متروک نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ متروک نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4653
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الرِّجَالِ ، وَالنِّسَاءِ ، فَحَضَّ الرِّجَالَ عَلَى الصَّدَقَةِ ، ثُمَّ أَقْبَلُ عَلَى النِّسَاءِ فَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ زَيْنَبُ - امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ - بِلَالًا فَقَالَتْ : اقْرَأْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ السَّلَامَ ، وَلَا تُبَيِّنْ لَهُ ، وَقُلْ لَهُ : هَلْ لَهَا مَنْ أَجْرٍ فِي زَوْجِهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ وَأَيْتَامٌ فِي حِجْرِهَا - وَهُمْ بَنُو أَخِيهَا - أَنْ تَجْعَلَ صَدَقَتَهَا فِيهِمْ ؟ فَأَتَى بِلَالٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَالَ : " نَعَمْ لَهَا أَجْرُهَا أَجْرَانِ : أَجْرُ الْقَرَابَةِ ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نَصْرٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں اور خواتین کے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے پہلے مردوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی پھر آپ خواتین کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اس خاتون نے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنا کہ مہاجرین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے سلام پیش کیا ہے تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بیان نہ کرنا ( کہ میں نے یہ کہا: ہے ) تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا کہ کیا اس عورت کو اپنے شوہر کے بارے میں اجر ملے گا جس کا تعلق مہاجرین سے ہے ، اور جس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، اور اس عورت کے زیر پرورش یتیم بچے بھی ہیں اور وہ بچے اس عورت کے بھتیجے ہیں کہ اگر وہ صدقہ کو ان ( بچوں اور اپنے شوہر ) پر خرچ کرتی ہے ؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا : جی ہاں ۔ اس عورت کو دگنا اجر ملے گا رشتے داری کے حقوق ادا کرنے کا اجر اور صدقہ کرنے کا اجر ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصر ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصر ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4654
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْصَرَفَ يَوْمًا مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَأَتَى النِّسَاءَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَقَفَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ بِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَتَقَرَّبْنَ إِلَى اللَّهِ بِمَا اسْتَطَعْتُنَّ " . وَكَانَ فِي النِّسَاءِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَأَتَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا سَمِعَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَتْ حُلِيًّا لَهَا ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : أَيْنَ تَذْهَبِينَ بِهَذَا الْحُلِيِّ ؟ قَالَتْ : أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ رَجَاءَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْ أَهْلِ النَّارِ . فَقَالَ : وَيْلَكِ هَلُمِّي فَتَصَدَّقِي عَلَيَّ ، وَعَلَى وَلَدِي ، فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ حَتَّى أَذْهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَذَهَبَتْ تَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَيُّ الزَّيَانِبُ هِيَ ؟ " قَالُوا : امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " ائْذَنُوا لَهَا " . فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ مَقَالَةً فَرَجَعْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَحَدَّثْتُهُ ، فَأَخَذْتُ حُلِيِّي أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكَ رَجَاءَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي اللَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ . فَقَالَ لِي ابْنُ مَسْعُودٍ : تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ ، وَعَلَى وَلَدِي ، فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ ، فَقُلْتُ : حَتَّى أَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيْهِ ، وَعَلَى بَنِيهِ ، فَإِنَّهُمْ لَهُ مَوْضِعٌ " . ثُمَّ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا سَمِعْتُ مِنْكَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَيْنَا " مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عَقْلٍ [ قَطْ ] وَلَا دِينٍ أَذْهَبَ بِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ ؟ " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعُقُولِنَا ؟ قَالَ : " أَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ فَالْحَيْضَةُ الَّتِي تُصِيبُكُنَّ تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَمْكُثَ لَا تُصَلِّي وَلَا تَصُومُ ، فَذَلِكُنَّ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ عُقُولِكُنَّ فَشَهَادَتُكُنَّ إِنَّمَا شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ نِصْفُ شَهَادَةِ الرَّجُلِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کے فارغ ہوئے آپ مسجد میں خواتین کے پاس تشریف لائے آپ ان کے پاس ٹھہر گئے آپ نے ارشاد فرمایا : اے خواتین کے گروہ ! میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے نقص والی ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو تم سے زیادہ جلدی ، سمجھ دار لوگوں کے دلوں کو لے جاتی ہو ، اور میں نے دیکھا ہے کہ قیامت کے دن اہل جہنم کی اکثریت تمہاری ہو گی تو تم جہاں تک ہو سکے اللہ تعلی کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو ان خواتین میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی موجود تھیں وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو بات سنی تھی اس کے بارے میں انہیں بتایا انہوں نے اپنا زیور لیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم اپنا زیور لے کے کہاں جا رہی ہو ؟ اس نے کہا: میں اس کے ذریعے اللہ تعالی اور اس کے رسول کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں ۔ یہ امید رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنمی نہیں کرے گا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم لاؤ اور مجھے صدقہ کرو اور میرے بچوں کے اوپر صدقہ کرو کیونکہ ہم اس بات کے مستحق ہیں اس خاتون نے کہا: جی نہیں پہلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گی ( اور آپ سے اس بارے میں دریافت کروں گی ) پھر وہ خاتون گئیں اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! زینب اندر آنے کی اجازت مانگ رہی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون سی زینب ؟ لوگوں نے بتایا : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اندر آنے دو وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کی گفتگو سنی تھی میں واپس سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئی میں نے انہیں یہ بات بتائی میں نے اپنا زیور لیا تاکہ میں اللہ تعالیٰ اور آپ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں یہ امید رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اہل جہنم میں سے نہیں کرے گا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : تم یہ ( زیور ) مجھ پر اور میری اولاد پر صدقہ کرو کیونکہ ہم اس بات کے مستحق ہیں تو میں نے کہا: جب تک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں لیتی ( میں ایسا نہیں کروں گی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم وہ ( زیور ) اس پر اور اس کے بچوں پر صدقہ کرو کیونکہ ان کا حق ہے پھر اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو سنا تھا جب آپ ہمارے پاس ٹھہرے تھے ۔ آپ نے فرمایا : میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص مخلوق نہیں دیکھی جو تم سے زیادہ جلدی سمجھ دار لوگوں کے دلوں کو لے جاتی ہو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے دین اور ہماری عقل میں کیا کمی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہارے دین میں کمی کا جو ذکر کیا تھا اس سے مراد حیض ہے ، جو تم خواتین کو لاحق ہوتا ہے ، اور پھر جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے کوئی عورت ٹھہری رہتی ہے وہ اس دوران نہ نماز ادا کرتی ہے ، اور نہ روزہ رکھتی ہے ، تو یہ تمہارے دین میں کمی ہے ، اور جہاں تک میں نے عقل میں کمی کا ذکر کیا تھا ، تو اس سے مراد تم خواتین کا گواہی دینا ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف ہوتی ہے ۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4655
وَعَنْ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّ وَلَدِهِ ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَنَاعَ الْيَدِ . قَالَ : فَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ صَنْعَتِهَا قَالَتْ : فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ : لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ بِشَيْءٍ ؟ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي ! ! فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبِيعُ مِنْهَا وَلَيْسَ لِي وَلَا لِوَلَدِي وَلَا لِزَوْجِي نَفَقَةٌ غَيْرُهَا ، وَقَدْ شَغَلُونِي عَنِ الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِشَيْءٍ فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ فِيمَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ فَإِنَّ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرَ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ ، وَقَدْ تُوبِعَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اور ان کی ام ولد سیدہ رائطہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : وہ ایک ایسی خاتون تھی جو دست کاری جانتی تھیں راوی بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد پر اپنی آمدن خرچ کیا کرتی تھیں وہ بیان کرتی ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے اور آپ کے بچوں نے مجھ کو صدقہ کرنے سے روکا ہوا ہے آپ لوگوں کے ہمراہ میں کوئی چیز صدقہ نہیں کر پاتی ہوں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اگر تمہیں اس میں اجر نہ ملتا ہوتا تو تمہیں ایسا کرنا پڑتا وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کام کاج کرنے والی عورت ہوں جسے میں فروخت کر دیتی ہوں میرے لئے اور میرے بچوں کے لئے اور میرے شوہر کے لئے اس آمدن کے علاوہ کوئی خرچ کا ذریعہ نہیں ، لیکن ان لوگوں کی وجہ سے میں صدقہ نہیں کر پاتی ہوں کہ کوئی چیز صدقہ کر دوں تو کیا مجھے اس چیز کے حوالے سے اجر ملے گا ، جو میں ان پر خرچ کرتی ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : ” تم ان پر خرچ کرو کیونکہ تم ان پر جو خرچ کرو گی تمہیں اس پر اجر ملے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے لیکن ” ثقہ “ ہے اس کی متابعت کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے لیکن ” ثقہ “ ہے اس کی متابعت کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4656
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَضْحَى ، أَوْ فِطْرٍ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَوَعَظَ النَّاسَ ، وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ ، وَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا " . ثُمَّ انْصَرَفَ فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَ لَهُنَّ : " تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ " . فَقُلْنَ : بِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِقَلْبِ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ " . فَقُلْنَ : مَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا وَدِينِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ بِنِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ ؟ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا . أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ ؟ " . قُلْنَ : بَلَى . قَالَ : " فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا " . قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ جَاءَتْهُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ . قَالَ : " أَيُّ الزَّيَانِبُ ؟ " . قِيلَ : امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . قَالَ : " ائْذَنْ لَهَا " . فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّكَ أَمَرْتَنَا الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ ، وَعِنْدِي حُلِيٌّ لِي ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ فَزَعْمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ هُوَ وَوَلَدُهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی یا شاید عیدالفطر کے دن نکلے آپ نے نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! صدقہ کرو پھر آپ وہاں سے مڑے اور خواتین کے پاس سے گزرے آپ نے ان سے فرمایا تم صدقہ کرو کیونکہ میں نے اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ( یعنی خواتین کی ) دیکھی ہے خواتین نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ تم بکثرت لعنت کرتی ہو ، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو تم میں سے کسی ایک سے زیادہ جلدی کسی سمجھ دار شخص کے دل کو لے جائے اے خواتین کے گروہ ! خواتین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عورت کے عقل اور دین میں کیا کمی ہوتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف نہیں ہوتی ہے تو یہ اس کے عقل کی کمی کی وجہ سے ہے کیا جب عورت کو حیض آتا ہے وہ نماز ادا نہیں کرتی ہم نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اس کے دین میں کمی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے گئے یہاں تک کہ اپنے گھر آ گئے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اندر آنے کی اجازت مانگ رہی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون سی زینب عرض کی گئی : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اجازت دے دو آپ نے اسے اجازت دی تو اس خاتون نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آج آپ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا میرے پاس زیور تھا ۔ میں نے اس کو صدقہ کرنے کا ارادہ کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ وہ اور ان کی اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ میں ان پر صدقہ کروں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابن مسعود نے ٹھیک کہا: ہے تمہارا شوہر اور تمہاری اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ تم ان پر صدقہ کرو“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4657
وَعَنْ جَمْرَةَ بِنْتِ قُحَافَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ " . فَأَتَتْ زَيْنَبُ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زَوْجِي مُحْتَاجٌ فَهَلْ يَجُوزُ لِي أَنْ أُعُودَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، لَكِ أَجْرَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَازِبٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ جمرہ بنت قحافہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے خواتین کے گروہ تم صدقہ کرو خواہ اپنے زیور ہی کر دو کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آئیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے شوہر محتاج ہیں تو کیا میرے لئے یہ بات جائز ہو گی کہ میں ان کی مدد کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ۔ اس طرح تمہیں دگنا اجر ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عازب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عازب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔