کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پوشیدہ طور پر صدقہ کرنا
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ صَدَقَةَ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا - وَيَأْتِي بِطُولِهِ فِي الْبِرِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ; وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حيدة رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پوشیدہ طور پر صدقہ دینا پروردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ وہ طویل روایت نیکی سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اس روایت کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ ہے ، جسے دحیم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4636
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (421/19 ) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (947)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَنَائِعُ الْمَعْرُوفِ تَقِي مَصَارِعَ السُّوءِ ، وَصَدَقَةُ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ ، وَصِلَةُ الرَّحِمِ تَزِيدُ فِي الْعُمُرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بھلائی کرنا بری موت سے بچاتا ہے پوشیدہ صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو بجھا دیتا ہے ، اور صلہ رحمی کرنا عمر میں اضافہ کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4637
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8014)»
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ : حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " صَدَقَةُ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام ابوجعفر محمد بن علی رضی اللہ عنہ ( یعنی امام باقر ) بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” پوشیدہ طور پر صدقہ کرنا پروردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4638
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (125 مجمع البحرين) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1034)»
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَنَائِعُ الْمَعْرُوفِ تَقِي مُصَارِعَ السُّوءِ ، وَالصَّدَقَةُ خَفْيًا تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ ، وَصِلَةُ الرَّحِمِ زِيَادَةٌ فِي الْعُمُرِ ، وَكُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَأَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ ، وَأَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اچھائی کرنا بری موت سے بچاتا ہے خفیہ طور پر صدقہ کرنا پروردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے صلہ رحمی کرنا عمر میں اضافہ کرتا ہے ہر بھلائی صدقہ ہے ، اور دنیا میں بھلائی کرنے والے آخرت میں بھلائی کرنے والے شمار ہوں گے اور دنیا میں منکرین آخرت میں منکر شمار ہوں گے اور بھلائی کرنے والے لوگ سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید وصافی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4639
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط“ (6222)»