مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ : أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ . باب: کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الصَّدَقَةُ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ ، وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ " . ثُمَّ قَرَأَ : " ( مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ) " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ ، أَوْ جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ " . ثُمَّ قَرَأَ : ( إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ) " الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صدقہ کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اس کا اجر کئی گنا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مزید بھی ملتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ” جو شخص اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے گا اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا اجر عطا کرے گا“ ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : غریب کو پوشیدہ طور پر دینا یا تنگ دست شخص کا محنت کر کے صدقہ کرنا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اگر تم صدقات کو ظاہر کرتے ہو تو یہ اچھی بات ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔