حدیث نمبر: 4641
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَجْلِسِ جَالِسًا ، وَكَانُوا يَظُنُّونَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ ، فَأَقْصَرُوا عَنْهُ حَتَّى جَاءَ أَبُو ذَرٍّ فَأَقْحَمَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، الصَّدَقَةُ مَا هِيَ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ ، وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ ، وَجُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محفل میں تشریف فرماتے تھے لوگ یہ گمان کر رہے تھے کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ۔ لوگوں نے آپ سے کوئی بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے اس کے بعد راوی نے پوری حدیث کے ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! صدقہ کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا بدلہ کئی گنا ہوتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مزید ( اجر و ثواب بھی ملے گا ) میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پوشیدہ طور پر کسی غریب کو صدقہ کرنا یا تنگ دست شخص کا محنت کر کے صدقہ کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ۔ اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4641
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7871 ) اخرجه احمد فى المسند (266 265/5)»