کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنازے کے ساتھ جانا اس کے ہمراہ چلنا اور نماز جنازہ ادا کرنا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عُودُوا الْمَرِيضَ ، وَامْشُوا مَعَ الْجِنَازَةِ ; تُذَكِّرْكُمُ الْآخِرَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بیمار کی عیادت کرو ، جنازے کے ساتھ چل کے جاؤ یہ چیز تمہیں آخرت کی یاد دلائے گی“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4132
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1119) (1222) اخرجه الامام احمد فى المسند (483231،23/3) اخرجه الامام البزار فى المسند (822،821)»
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : إِنَّا قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَضَرِ وَالسَّفْرِ ، فَكَانَ يَعُودُ مَرْضَى الْمُسْلِمِينَ وَيَشْهَدُ جَنَائِزَهُمْ - أَوْ قَالَ : يَتْبَعُ جَنَائِزَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضر اور سفر میں ساتھ ہوتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار مسلمانوں کی عیادت کرتے تھے ، اور جنازوں میں شریک ہوتے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جنازوں کے ساتھ جاتے تھے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4133
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُجَازَى بِهِ الْعَبْدُ بَعْدَ مَوْتِهِ أَنْ يُغْفَرَ لِجَمِيعِ مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الشَّامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مرنے کے بعد آدمی کو جو سب سے پہلی جزا دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے جنازے میں شریک ہونے والے تمام افراد کی مغفرت کر دی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم شامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4134
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (820)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُجِنَّهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحَدٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص نماز جنازہ ادا کرتا ہے اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے ، اور جو شخص میت کے دفن ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے اسے دو قیراط ملتے ہیں ایک قیراط احد پہاڑ کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے امام أحمد نے اور ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی اسناد حسن ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4135
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً فَحَمَلَ مِنْ عُلُوِّهَا ، وَحَثَا فِي قَبْرِهَا ، وَقَعَدَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَهُ ، آبَ بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ " . قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جنازے کے ساتھ جاتا ہے ، اور اسے کندھا دیتا ہے اسے قبر میں اتارتا ہے ، اور بیٹھا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے واپسی کی اجازت دی جائے تو وہ اجر کے دو قیراط لے کر واپس آتا ہے ، جن میں سے ہر ایک قیراط اُحد پہاڑ کی مانند ہوتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ، اور وہ اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4136
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَإِنَّ لَهُ قِيرَاطًا " . فَسُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْقِيرَاطِ فَقَالَ : " مِثْلُ أُحُدٍ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جنازے کے ساتھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کرتا ہے ، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : احد پہاڑ کی مانند ہوتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4137
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
وَفِي رِوَايَةٍ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِثْلُ قَرَارِيطِنَا هَذِهِ ؟ قَالَ : " لَا بَلْ مِثْلُ أُحُدٍ ، أَوْ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ تَّبَعَ جِنَازَةً حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا ثُمَّ يَرْجِعُ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ مَشَى مَعَهَا حَتَّى يَدْفِنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ " قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ قَالَ : " مِثْلُ أُحُدٍ " . ¤ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ہمارے ان قیراطوں کی مانند ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ اُحد پہاڑ کی مانند ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُحد پہاڑ سے بڑا ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات منقول ہے ( آپ نے ارشاد فرمایا : ) ” جو شخص جنازے کے ساتھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کرتا ہے پھر جب واپس آتا ہے ، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے اور جو شخص نماز جنازہ ادا کرتا ہے اور پھر جنازے کے ساتھ جاتا ہے یہاں تک کہ اسے دفن کر دیتا ہے ، تو اسے دو قیراط ملتے ہیں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! دو قیراط کتنے ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُحد پہاڑ کی مانند ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4138
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : [ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ جِنَازَةَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ ، فَإِنْ قَعَدَ حَتَّى يُسَوَّى عَلَيْهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ ; كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ كُتِبَ لَهُ قِيرَاطٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِلَفْظِ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا " ، وَقَالُوا : وَمَا الْقِيرَاطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مِثْلُ أُحُدٍ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ أَحَدِهِمَا مُحْتَسِبٌ ، وَفِي الْآخَرِ رَوْحُ بْنُ عَطَاءٍ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی مسلمان کسی مسلمان شخص کے جنازے میں شریک ہوتا ہے ، تو اسے اجر کا ایک قیراط ملتا ہے اگر وہ بیٹھا رہے یہاں تک کہ اسے برابر کر دیا جائے ( یعنی میت کو دفن کر دیا جائے ) تو اس شخص کو اجر کے دو قیراط ملتے ہیں جن میں سے ہر ایک قیراط اُحد پہاڑ کی مانند ہوتا ہے “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص نماز جنازہ ادا کرتا ہے اس کے لئے ایک قیراط نوٹ کر لیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے : ” جو شخص جنازے کے ساتھ جاتا ہے ، اور نماز جنازہ ادا کرتا ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیراط سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُحد پہاڑ کی مانند “ ۔ ان دونوں کی سند میں سے ایک سند میں ایک راوی محسب ہے ، اور دوسری میں ایک راوی روح بن عطاء ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4139
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4169 ، 4095)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَتَى جِنَازَةً فِي أَهْلِهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنِ اتَّبَعَهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ صَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنِ انْتَظَرَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطٌ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، صَحَّحَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَالنَّسَائِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جنازے والے گھر میں آتا ہے اسے ایک قیراط ملتا ہے اگر وہ جنازے کے ساتھ جاتا ہے ، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے اگر وہ اس کی نماز جنازہ ادا کرتا ہے ، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے ، اور اگر وہ دفن ہونے تک اس کا انتظار کرتا ہے ، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معدی بن سلیمان ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور ابوزرعہ نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4140
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُوضَعُ فِي مِيزَانِهِ قِيرَاطَانِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ " ، يَعْنِي : مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس کے میزان میں دو قیراط رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک قیراط احد پہاڑ کی ماند ہو گا “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا اس شخص کے ساتھ ہو گا ، جو جنازے میں شریک ہوا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4141
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ عَادَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : تَعُودُ الْحَسَنَ ، وَفِي نَفْسِكَ مَا فِيهَا ؟ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبِّي تَصْرِفُ قَلْبِي حَيْثُ شِئْتَ ! قَالَ عَلِيٌّ : أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يَمْنَعُنَا أَنْ نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ إِلَّا ابْتَعَثَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ مِنْ أَيِّ سَاعَاتِ النَّهَارِ كَانَ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمِنْ أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ كَانَ حَتَّى يُصْبِحَ " . ¤ قَالَ لَهُ عَمْرٌو : كَيْفَ تَقُولُ فِي الْمَشْيِ مَعَ الْجِنَازَةِ بَيْنَ يَدَيْهَا أَوْ مِنْ خَلْفِهَا ؟ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : إِنَّ فَضْلَ الْمَشْيِ خَلْفَهَا عَلَى بَيْنِ يَدَيْهَا كَفَضْلِ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى الْوَاحِدَةِ ، قَالَ عَمْرٌو : فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ ، قَالَ عَلِيٌّ : إِنَّهُمَا كَرِهَا أَنْ يَحْرِجَا النَّاسَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ عِيَادَةَ الْمَرِيضِ فَقَطْ ، وَجَعَلَ الْعَائِدَ أَبَا مُوسَى ، وَهُنَا عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤ وَيَأْتِي أَثَرٌ عَنْ عَلِيٍّ أَبْيَنُ مِنْ هَذَا فِيمَا يَقُولُ عِنْدَ إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں : عمرو بن حریث سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم حسن کی عیادت کرنے کے لئے آئے ہو جبکہ تمہارے من میں جو ہے وہ ہے ، تو عمرو نے ان سے کہا: آپ میرے پروردگار نہیں ہیں کہ میرے دل کو جیسے چاہیں پھیر دیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہمیں تمہیں نصیحت کرنے سے یہ بات مجبور کر رہی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو مسلمان اپنے بھائی کی عیادت کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے بھیج دیتا ہے ، جو اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں اگر وہ دن کی کسی گھڑی میں گیا ہو تو شام تک ایسا ہوتا رہتا ہے ، اور اگر وہ شام کی کسی بھی گھڑی میں گیا ہو تو صبح ہونے تک ایسا ہوتا رہتا ہے “ ۔ عمرو بن حریث نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : جنازے کے ساتھ جانے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اس کے آگے چلنا چاہیے یا اس کے پیچھے چلنا چاہیے ؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا اس کے آگے چلنے پر اس کے پیچھے چلنے کو وہی فضیلت حاصل ہے ، جو با جماعت فرض نماز ادا کرنے کو تنہا نماز ادا کرنے پر حاصل ہے عمرو بن حریث نے کہا: میں نے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے سے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ دونوں حضرات اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ لوگوں کو حرج کا شکار کریں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف بیمار کی عیادت کرنے والا حصہ نقل کیا ہے ، اور عیادت کرنے والے شخص کے بارے میں یہ کہا: ہے کہ وہ عیادت کرنے والے سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ تھے ، جبکہ یہاں یہ منقول ہے کہ وہ عمرو بن حریث تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔ آگے چل کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک روایت آئے گی جو اس سے زیادہ واضح ہے یہ اس باب میں آئے گی کہ میت کو قبر میں داخل کرتے وقت کیا پڑھنا چاہیے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4142
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (289) اخرجه الامام احمد فى المسند (955 ، 754) اخرجة الامام البزار فى المسند (829)»
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمِ الْهَجَرِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ فِي جِنَازَةِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ حَوِيٍّ - يَعْنِي سَوْدَاءَ - فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَقُلْنَ لِقَائِدِهِ : قَدِّمْهُ أَمَامَ الْجِنَازَةِ ، فَفَعَلَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ : أَيْنَ الْجِنَازَةُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : خَلْفَكَ ، [ قَالَ : فَفَعَلَ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ ] قَالَ : أَلَمْ أَنْهَكَ أَنْ تُقَدِّمَنِي أَمَامَ الْجِنَازَةِ ؟ قَالَ : فَسَمِعَ صَوْتَ امْرَأَةٍ تَلْتَدِمُ ، وَقَالَ مَرَّةً : تَرْثِي ، فَقَالَ : مَهْ أَلَمْ أَنْهَكُنَّ عَنْ هَذَا ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَانَا عَنِ الْمَرَاثِي ، لِتُفِضْ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبْرَتِهَا مَا شَاءَتْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ النَّهْيَ عَنِ الْمَرَاثِي فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ فِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن مسلم ہجری بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے جنازے میں شریک ہوا وہ ایک سیاہ رنگ کے خچر پر موجود تھے خواتین نے ، اس خچر کو لے کر چلنے والے سے ، یہ کہنا شروع کیا کہ انہیں جنازے کے آگے لے کے چلو اس نے ایسا ہی کیا ، تو میں نے انہیں اس شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جنازہ کہاں ہے اس شخص نے کہا: آپ کے پیچھے ہے راوی کہتے ہیں : ایک یا شاید دو مرتبہ ایسا ہوا ، پھر انہوں نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا کہ تم مجھے جنازے کے آگے لے کے جاؤ راوی کہتے ہیں : اسی دوران انہوں نے ایک خاتون کے مرثیہ پڑھنے کی آواز سنی تو انہوں نے فرمایا : رک جاؤ کیا میں نے تم خواتین کو اس چیز سے منع نہیں کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مرثیہ کہنے سے منع کیا ہے تم میں سے کوئی ایک عورت جتنی چاہے آنسو بہا سکتی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف مرثیہ کی ممانعت والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ابراہیم ہجری نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4143
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمدقى المسند (383،356/4)»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي خَلْفَ الْجِنَازَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْجَنَائِزِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے پیچھے چلتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ جنائزی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4144
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5853)»
وَعَنْ دَرَّاجٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَاكِبًا عَلَى دَابَّةٍ بَيْنَ يَدَيِ الْجِنَازَةِ حَتَّى أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَنَزَلَ ، فَجَلَسَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ الْجِنَازَةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ؛ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
دراج بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ایک سواری پر سوار ہو کر جنازے سے آگے چلتے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ جب وہ قبرستان آئے ، تو سواری سے نیچے اتر گئے اور جنازے کے آنے سے پہلے بیٹھ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4145
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف