مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ اتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ وَالْمَشْيِ مَعَهَا وَالصَّلَاةِ عَلَيْهَا . باب: جنازے کے ساتھ جانا اس کے ہمراہ چلنا اور نماز جنازہ ادا کرنا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً فَحَمَلَ مِنْ عُلُوِّهَا ، وَحَثَا فِي قَبْرِهَا ، وَقَعَدَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَهُ ، آبَ بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ " . قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جنازے کے ساتھ جاتا ہے ، اور اسے کندھا دیتا ہے اسے قبر میں اتارتا ہے ، اور بیٹھا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے واپسی کی اجازت دی جائے تو وہ اجر کے دو قیراط لے کر واپس آتا ہے ، جن میں سے ہر ایک قیراط اُحد پہاڑ کی مانند ہوتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ، اور وہ اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔