مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ اتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ وَالْمَشْيِ مَعَهَا وَالصَّلَاةِ عَلَيْهَا . باب: جنازے کے ساتھ جانا اس کے ہمراہ چلنا اور نماز جنازہ ادا کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : [ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ جِنَازَةَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ ، فَإِنْ قَعَدَ حَتَّى يُسَوَّى عَلَيْهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ ; كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ كُتِبَ لَهُ قِيرَاطٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِلَفْظِ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا " ، وَقَالُوا : وَمَا الْقِيرَاطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مِثْلُ أُحُدٍ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ أَحَدِهِمَا مُحْتَسِبٌ ، وَفِي الْآخَرِ رَوْحُ بْنُ عَطَاءٍ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی مسلمان کسی مسلمان شخص کے جنازے میں شریک ہوتا ہے ، تو اسے اجر کا ایک قیراط ملتا ہے اگر وہ بیٹھا رہے یہاں تک کہ اسے برابر کر دیا جائے ( یعنی میت کو دفن کر دیا جائے ) تو اس شخص کو اجر کے دو قیراط ملتے ہیں جن میں سے ہر ایک قیراط اُحد پہاڑ کی مانند ہوتا ہے “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص نماز جنازہ ادا کرتا ہے اس کے لئے ایک قیراط نوٹ کر لیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے : ” جو شخص جنازے کے ساتھ جاتا ہے ، اور نماز جنازہ ادا کرتا ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیراط سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُحد پہاڑ کی مانند “ ۔ ان دونوں کی سند میں سے ایک سند میں ایک راوی محسب ہے ، اور دوسری میں ایک راوی روح بن عطاء ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔