کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نماز جنازہ ادا کرنا
حدیث نمبر: 4146
عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : شَهِدْتُ حُسَيْنًا حِينَ مَاتَ الْحَسَنُ ، وَهُوَ يَدْفَعُ فِي قَفَا سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، وَهُوَ يَقُولُ : تَقَدَّمْ ; فَلَوْلَا أَنَّهَا السُّنَّةُ [ يَقُولُ : الشَّيْبَةُ ] مَا قَدَّمْتُكَ . وَسَعِيدٌ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو وہ ( یعنی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ) سعید بن العاص کی گردن پکڑ کر انہیں آگے کر رہے تھے ، اور یہ کہہ رہے تھے کہ آپ آگے ہوں اگر یہ چیز سنت نہ ہوتی تو میں آپ کو آگے نہ کرتا ( راوی کہتے ہیں : ) سعید بن العاص ان دنوں مدینہ منورہ کے گورنر تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4146
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
حدیث نمبر: 4147
وَعَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ قَالَ : هَلَكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَحَضَرْنَا بَابَهُ فِي بَنِي سَلَمَةَ ، فَلَمَّا خَرَجَ سَرِيرُهُ مِنْ حُجْرَتِهِ إِذَا حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ بَيْنَ عَمُودَيِ السَّرِيرِ ، فَأَمَرَ بِهِ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ بَيْنِ الْعَمُودَيْنِ ، فَتَأَبَّى عَلَيْهِمْ حَتَّى تَعَاطَوْهُ ، فَسَأَلَهُ بَنُو جَابِرٍ إِلَّا خَرَجَ ، فَخَرَجَ وَجَاءَ الْحَجَّاجُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ حَتَّى وُضِعَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْقَبْرِ فَإِذَا حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ قَدْ نَزَلَ فِي قَبْرِهِ فَأَمَرَ بِهِ الْحَجَّاجُ أَنْ يَخْرُجَ فَتَأَبَّى ، فَقَالَ بَنُو جَابِرٍ : بِاللَّهِ ، فَخَرَجَ فَاقْتَحَمَ الْحَجَّاجُ الْحُفْرَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو الْحُوَيْرِثِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ مَالِكٌ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوحویرث بیان کرتے ہیں : سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا : بنو سلمہ کے محلے میں ہم ان کے دروازے کے پاس موجود تھے ، جب ان کے حجرے سے ان کی میت کی چارپائی نکلی تو حسن بن حسن چارپائی کے دو ستونوں کے درمیان تھے حجاج بن یوسف نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ دو پایوں کے درمیان سے نکل جائیں تو انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ، لوگوں نے ان کے ساتھ زبردستی کرنی چاہی ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں نے ان سے درخواست کی ، تو وہ نکل گئے ، جب وہ نکلے تو حجاج آیا اور دو پایوں کے درمیان ٹھہر گیا اور اس وقت تک رہا جب تک ان کی میت کو رکھ نہیں دیا گیا اس نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی پھر جب وہ قبر کے پاس آیا ، تو حسن بن حسن قبر میں اتر چکے تھے حجاج نے حکم دیا کہ وہ باہر آ جائیں انہوں نے یہ بات نہیں مانی ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں نے کہا: اللہ کا واسطہ ہے ، تو وہ باہر آ گئے ، پھر حجاج نے انہیں قبر میں اتارا ، یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابوحویرث نامی رادی کو ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام مالک اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4147
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1738)»
حدیث نمبر: 4148
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَهُمْ بِالْخُرُوجِ إِلَى بَدْرٍ ، وَأَجْمَعَ الْخُرُوجَ مَعَهُ ، فَقَالَ لَهُ خَالُهُ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ : أَقِمْ عَلَى أُمِّكَ يَا ابْنَ أُخْتِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ : بَلْ أَنْتَ فَأَقِمْ عَلَى أُخْتِكَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ أَبَا أُمَامَةَ بِالْمُقَامِ عَلَى أُمِّهِ ، وَخَرَجَ بِأَبِي بُرْدَةَ ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ تُوُفِّيَتْ فَصَلَّى عَلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بدر کی طرف نکلنے کے بارے میں بتایا تو سیدنا ابوامامہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنے کا پختہ ارادہ کر لیا ان کے ماموں سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے میرے بھانجے تم اپنی ماں کے پاس ٹھہرے رہو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: بلکہ آپ اپنی بہن کے پاس ٹھہرے رہیں جب انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی والدہ کے پاس ٹھہرے رہیں اور سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے گئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو ان خاتون کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی والدہ کی نماز جنازہ پڑھائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4148
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (792)»
حدیث نمبر: 4149
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ سَلْمٍ قَالَ : تُوُفِّيَ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَجُنَادَةُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
جنادہ بن سلم بیان کرتے ہیں : سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو عمرو بن حریث نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ جنادہ نامی راوی کو ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابوزرعہ اور ابوحاتم نے انہیں ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4149
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4150
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : اجْتَمَعَ جَرِيرٌ وَالْأَشْعَثُ فِي جِنَازَةٍ ، فَقَدَّمَ الْأَشْعَثُ جَرِيرًا فَصَلَّى عَلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا جریر رضی اللہ عنہ اور سیدنا اشعت ایک جنازے میں اکھٹے ہوئے تو سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کو آگے کیا ، تو انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 4151
وَعَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو أَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَبُو بَرْزَةَ [ الْأَسْلَمِيُّ ، فَرَكِبَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا بَلَغَ قَصْرَ هِشَامٍ قِيلَ لَهُ : إِنَّهُ قَدْ أَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَبُو بَرْزَةَ ] فَرَكِبَ [ دَابَّتَهُ ] رَاجِعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ثابت بنانی بیان کرتے ہیں : عائذ بن عمرو نے یہ وصیت کی کہ سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ان کی نماز جنازہ پڑھائیں عبیداللہ بن زیاد ان کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے سوار ہو کر آیا جب وہ ہشام کے قصر کے پاس پہنچا تو اسے یہ بتایا گیا کہ انہوں نے تو یہ وصیت کی ہے کہ سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ ان کی نماز جنازہ پڑھائیں تو وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر واپس چلا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4151
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 17/18»
حدیث نمبر: 4152
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي فِي مَسْكَةٍ مِنْ دِينِهَا مَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن وہب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے لوگ اس وقت تک دین پر گامزن رہیں گے جب تک وہ جنائز کو ان کے اہل خانہ کے سپرد نہیں کریں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4152
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4153
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمْ يُوَقَّتْ لَنَا فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ قِرَاءَةٌ وَلَا قَوْلٌ ، كَبِّرْ مَا كَبَّرَ الْإِمَامُ ، وَأَكْثِرْ مِنْ طِيبِ الْكَلَامِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمارے لئے نماز جنازہ میں کوئی قرأت یا کوئی مخصوص دعا مقرر نہیں کی گئی ہے ، جب امام تکبیر کہے ، تو تم بھی تکبیر کہو ، اور عمدہ گفتگو کثرت کے ساتھ کرو ( یعنی اچھے الفاظ میں میت کے لئے دعا کرو ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4153
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4154
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرَةِ فِي كُلِّ صَلَاةٍ وَعَلَى الْجَنَائِزِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : وَعَلَى الْجَنَائِزِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَرَّرٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں اور نماز جنازہ میں تکبیر کہتے وقت رفع یدین کرتے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم یہ الفاظ نہیں ہیں : ” نماز جنازہ میں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محرر ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4154
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط، (8584)»
حدیث نمبر: 4155
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى جِنَازَةٍ وَمَعَهُ سَبْعَةُ نَفَرٍ ، فَجَعَلَ ثَلَاثَةً صَفًّا ، وَاثْنَيْنِ صَفًّا ، وَاثْنَيْنِ صَفًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی آپ کے ساتھ سات افراد تھے آپ نے تین آدمیوں کی ایک صف بنائی دو آدمیوں کی ایک صف بنائی اور دو آدمیوں کی ایک صف بنائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4155
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7785)»
حدیث نمبر: 4156
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْجِنَازَةِ فَاقْرَءُوا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ حُمْرَانَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ ، وَفِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم نماز جنازہ ادا کرو تو سورت فاتحہ پڑھ لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلی بن حمران ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کے بعض رجال ( کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4156
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير، (162/24)،»
حدیث نمبر: 4157
وَعَنْ أُمِّ عَفِيفٍ قَالَتْ : بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ بَايَعَ النِّسَاءَ ; فَأَخَذَ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا تُحَدِّثْنَ الرَّجُلَ إِلَّا مَحْرَمًا ،وَأَمَرَنَا أَنْ نَقْرَأَ عَلَى مَيِّتِنَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ أَبُو سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام عفیف رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے بیعت لی تھی تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیت کی تھی آپ نے خواتین سے یہ بیعت لی تھی کہ تم کسی غیر محرم کے ساتھ بات چیت نہیں کرو گی ، اور آپ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم اپنے مردوں پر سورت فاتحہ پڑھیں گی ( یعنی نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھیں گی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم ابوسعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4157
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (168/25)»
حدیث نمبر: 4158
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ عَلَى الْجِنَازَةِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَاهِضُ بْنُ الْقَاسِمِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں چار مرتبہ سورت «الحمدلله رب العالمين» پڑھی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناہض بن قاسم ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4158
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4159
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُتِيَ بِجِنَازَةِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ - أَوْ قَالَ : سَهْلِ بْنِ عَتِيكٍ - وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صُلِّيَ عَلَيْهِ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرَ فَقَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَجَهَرَ بِهَا ثُمَّ كَبَّرَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ كَبَّرَ الثَّالِثَةَ فَدَعَا لِلْمَيِّتِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ " ، ثُمَّ كَبَّرَ الرَّابِعَةَ ، فَدَعَا لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ، ثُمَّ سَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا سہل بن عتیک رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا یہ وہ پہلے فرد ہیں جن کی نماز جنازہ ، جنازگاہ میں ادا کی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے آپ نے تکبیر پڑھی پھر آپ نے سورت فاتحہ پڑھی اور اسے بلند آواز میں پڑھا پھر آپ نے دوسری تکبیر کہی پھر آپ نے تیسری تکبیر کہی آپ نے میت کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ کہا: ” اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے تو اس پر رحم کر تو اس کے درجہ کو بلند کر دے “ ۔ پھر آپ نے چوتھی تکبیر کہی پھر آپ نے مومن مردوں اور مومن خواتین کے لئے دعا کی اور پھر سلام پھیر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4159
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4160
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَيِّتٍ قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا ، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا ، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا " . وَزَادَ أَبُو سَلَمَةَ : " مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ایک نماز جنازہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا : ” اے اللہ ! تو ہمارے زندہ افراد ہمارے مرحومین ہمارے موجود افراد ہمارے غیر موجود افراد ہمارے چھوٹوں ہمارے بڑوں ہمارے مردوں اور ہماری خواتین کی مغفرت کر دے “ ۔ ابوسلمہ نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے گا اسے اسلام پر زندہ رکھنا اور تو ہم میں سے جسے موت دے گا اسے ایمان پر موت دینا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4160
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4161
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا ، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، ذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا ، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا ، مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو ہمارے زندہ ہمارے مرحومین ہمارے موجود افراد غیر موجود افراد ہمارے مردوں ہماری خواتین ہمارے چھوٹوں ہمارے بڑوں کی مغفرت کر دے ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے گا ، اس کو اسلام پر زندہ رکھنا اور ہم میں سے جسے تو موت دے گا اسے ایمان پر موت دینا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4161
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4162
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَأَوْرِدْهُ حَوْضَ رَسُولِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : " وَبَارَكَ فِيهِ " . وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز جنازہ میں یہ پڑھتے ہوئے سنا : ” اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے تو اس پر رحمت نازل کر اور اسے اپنے رسول کے حوض پر لے آنا “ ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تو اس میں برکت رکھ دے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن ہلال ہے ، جسے ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4162
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4797)»
حدیث نمبر: 4163
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ قَالَ : " اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَاغْفِرْ لَهُ ، وَلَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : جب آپ نماز جنازہ ادا کرتے تھے تو اس میں یہ دعا پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے تیرے بندے کا بیٹا ہے یہ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں تو اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے اگر یہ اچھائی کرنے والا تھا ، تو اس کی اچھائی میں اضافہ کر دے اور اگر یہ برائی کرنے والا تھا ، تو اس کی مغفرت کر دے تو ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ رکھنا اور اس کے بعد ہمیں آزمائش کا شکار نہ کرنا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4163
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند، (6598)»
حدیث نمبر: 4164
وَعَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ قَالَ : سَأَلْنَا أَبَا سَعِيدٍ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ ؟ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُ خَلَقْتَهُ ، وَرَزَقْتَهُ ، وَأَحْيَيْتَهُ ، وَكَفَلْتَهُ ، فَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ ، وَلَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الْبَزَّارِ . ¤
محمد محی الدین
ابوصدیق ناجی بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے نماز جنازہ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے جواب دیا ہم یہ پڑھا کرتے تھے : ” اے اللہ ! تو ہمارا اور اس کا پروردگار ہے ، تو نے اسے پیدا کیا ، تو نے اسے رزق عطا کیا ، تو نے اسے زندگی دی تو اس کا کفیل ہوا تو ہماری اور اس کی مغفرت کر دے تو ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ رکھنا اور اس کے بعد تو ہمیں گمراہ نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے استاد کے علاوہ اس کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4164
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (818)»
حدیث نمبر: 4165
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا ، وَمَيِّتِنَا ، وَشَاهِدِنَا ، وَغَائِبِنَا ، وَلِأُنْثَانَا وَذُكُورِنَا ، مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتُهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ ، اللَّهُمَّ عَفْوَكَ عَفْوَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ میں یہ دعا کرتے تھے : ” اے اللہ ! تو ہمارے زندوں ، ہمارے مرحومین ہمارے موجود افراد ہمارے غیر موجود افراد ہماری خواتین ہمارے مردوں کی مغفرت کر دے ہم میں سے جسے تو زندگی دے گا اسے اسلام پر زندہ رکھنا اور ہم میں سے جسے تو موت دے گا اسے ایمان پر موت دینا اے اللہ ! تیری معافی کا سوال ہے تیری معافی کا سوال ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4165
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12680). اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1158)»
حدیث نمبر: 4166
وَعَنِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ عَلَى الْمَيِّتِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَحْيَائِنَا وَأَمْوَاتِنَا ، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا ، اللَّهُمَّ هَذَا عَبَدُكَ فَلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، لَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ ، فَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ - وَأَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ : فَإِنْ لَمْ أَعْلَمْ خَيْرًا ؟ قَالَ : " لَا تَقُلْ إِلَّا مَا تَعْلَمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، لَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز جنازہ کی تعلیم دیتے ہوئے انہیں ( اس دعا کی تعلیم دی تھی ) ” اے اللہ ! ہمارے زندہ لوگوں اور ہمارے مرحومین کی مغفرت کر دے ہمارے معاملات کو ٹھیک کر دے ہمارے دلوں کے درمیان الفت پیدا کر دے اے اللہ ! یہ تیرا بندہ فلاں بن فلاں ہے ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے ، اور تو اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ، تو ہماری اور اس کی مغفرت کر دے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : حالانکہ میں ان میں سب سے کمسن تھا کہ اگر مجھے بھلائی کا علم نہ ہو ؟ تو آپ نے فرمایا : تم صرف وہ بات کہو جو تم جانتے ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4166
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3265)»
حدیث نمبر: 4167
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ كَبَّرَ أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ ، احْتَاجَ إِلَى رَحْمَتِكَ ، وَأَنْتَ غَنِيٌّ عَنْ عَذَابِهِ ، فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانَهُ ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ " ، ثُمَّ يَدْعُو مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یزید بن رکانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ ادا کرتے تھے تو چار تکبیریں کہتے تھے ، اور یہ دعا کرتے تھے : ” اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے ، اور تیری کنیز کا بیٹا ہے یہ تیری رحمت کا محتاج ہے ، اور تو اس کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے اگر یہ اچھائی کرنے والا تھا ، تو تو اس کی اچھائی میں اضافہ کر دے اور اگر یہ برائی کرنے والا تھا ، تو تو اس سے درگزر فرما لے “ ۔ پھر جو اللہ کو منظور ہوتا تھا آپ وہ دعا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4167
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (249/22)»
حدیث نمبر: 4168
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ ; كَأَنَّهُمْ عُرْفُ دِيكٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أُمُّ يَحْيَى ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے انتقال کر گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑی ہوئی تھیں ، یوں لگتا تھا جیسے وہ لوگ مرغ کی کلغی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اُم یحیی ہے ، میں نے کسی کو اس خاتون کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4168
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4169
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُمَيْرِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حِينَ تُوُفِّيَ ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ فِي مَنْزِلِهِ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ وَرَاءَهُ ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَرَاءَ أَبِي طَلْحَةَ ، لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوطلحہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمیر بن ابوطلحہ کے انتقال پر ان کی نماز جنازہ کے لئے بلایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے ہاں تشریف لائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے گھر میں اس بچے کی نماز جنازہ پڑھائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہو گئے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھیں اور ان کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4169
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4170
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى جِنَازَةٍ ، فَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی ، تو آپ نے دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے ، جسے الوزرعہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4170
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4171
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : خِلَالٌ كَانَ يَفْعَلُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَرَكَهُنَّ النَّاسُ : إِحْدَاهُنَّ تَسْلِيمُ الْإِمَامِ فِي الْجِنَازَةِ مِثْلَ تَسْلِيمِهِ فِي الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کچھ کام ایسے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ، اور لوگوں نے انہیں ترک کر دیا ہے ، ان میں سے ایک امام کا نماز جنازہ میں اس طرح سلام پھیرنا ہے ، جس طرح وہ عام نماز میں سلام پھیرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4171
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10022)»