مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ اتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ وَالْمَشْيِ مَعَهَا وَالصَّلَاةِ عَلَيْهَا . باب: جنازے کے ساتھ جانا اس کے ہمراہ چلنا اور نماز جنازہ ادا کرنا
وَفِي رِوَايَةٍ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِثْلُ قَرَارِيطِنَا هَذِهِ ؟ قَالَ : " لَا بَلْ مِثْلُ أُحُدٍ ، أَوْ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ تَّبَعَ جِنَازَةً حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا ثُمَّ يَرْجِعُ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ مَشَى مَعَهَا حَتَّى يَدْفِنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ " قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ قَالَ : " مِثْلُ أُحُدٍ " . ¤ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ہمارے ان قیراطوں کی مانند ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ اُحد پہاڑ کی مانند ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُحد پہاڑ سے بڑا ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات منقول ہے ( آپ نے ارشاد فرمایا : ) ” جو شخص جنازے کے ساتھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کرتا ہے پھر جب واپس آتا ہے ، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے اور جو شخص نماز جنازہ ادا کرتا ہے اور پھر جنازے کے ساتھ جاتا ہے یہاں تک کہ اسے دفن کر دیتا ہے ، تو اسے دو قیراط ملتے ہیں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! دو قیراط کتنے ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُحد پہاڑ کی مانند ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔