حدیث نمبر: 4140
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَتَى جِنَازَةً فِي أَهْلِهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنِ اتَّبَعَهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ صَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنِ انْتَظَرَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطٌ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، صَحَّحَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَالنَّسَائِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جنازے والے گھر میں آتا ہے اسے ایک قیراط ملتا ہے اگر وہ جنازے کے ساتھ جاتا ہے ، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے اگر وہ اس کی نماز جنازہ ادا کرتا ہے ، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے ، اور اگر وہ دفن ہونے تک اس کا انتظار کرتا ہے ، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معدی بن سلیمان ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور ابوزرعہ نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4140
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن