حدیث نمبر: 4142
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ عَادَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : تَعُودُ الْحَسَنَ ، وَفِي نَفْسِكَ مَا فِيهَا ؟ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبِّي تَصْرِفُ قَلْبِي حَيْثُ شِئْتَ ! قَالَ عَلِيٌّ : أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يَمْنَعُنَا أَنْ نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ إِلَّا ابْتَعَثَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ مِنْ أَيِّ سَاعَاتِ النَّهَارِ كَانَ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمِنْ أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ كَانَ حَتَّى يُصْبِحَ " . ¤ قَالَ لَهُ عَمْرٌو : كَيْفَ تَقُولُ فِي الْمَشْيِ مَعَ الْجِنَازَةِ بَيْنَ يَدَيْهَا أَوْ مِنْ خَلْفِهَا ؟ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : إِنَّ فَضْلَ الْمَشْيِ خَلْفَهَا عَلَى بَيْنِ يَدَيْهَا كَفَضْلِ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى الْوَاحِدَةِ ، قَالَ عَمْرٌو : فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ ، قَالَ عَلِيٌّ : إِنَّهُمَا كَرِهَا أَنْ يَحْرِجَا النَّاسَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ عِيَادَةَ الْمَرِيضِ فَقَطْ ، وَجَعَلَ الْعَائِدَ أَبَا مُوسَى ، وَهُنَا عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤ وَيَأْتِي أَثَرٌ عَنْ عَلِيٍّ أَبْيَنُ مِنْ هَذَا فِيمَا يَقُولُ عِنْدَ إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں : عمرو بن حریث سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم حسن کی عیادت کرنے کے لئے آئے ہو جبکہ تمہارے من میں جو ہے وہ ہے ، تو عمرو نے ان سے کہا: آپ میرے پروردگار نہیں ہیں کہ میرے دل کو جیسے چاہیں پھیر دیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہمیں تمہیں نصیحت کرنے سے یہ بات مجبور کر رہی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو مسلمان اپنے بھائی کی عیادت کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے بھیج دیتا ہے ، جو اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں اگر وہ دن کی کسی گھڑی میں گیا ہو تو شام تک ایسا ہوتا رہتا ہے ، اور اگر وہ شام کی کسی بھی گھڑی میں گیا ہو تو صبح ہونے تک ایسا ہوتا رہتا ہے “ ۔ عمرو بن حریث نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : جنازے کے ساتھ جانے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اس کے آگے چلنا چاہیے یا اس کے پیچھے چلنا چاہیے ؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا اس کے آگے چلنے پر اس کے پیچھے چلنے کو وہی فضیلت حاصل ہے ، جو با جماعت فرض نماز ادا کرنے کو تنہا نماز ادا کرنے پر حاصل ہے عمرو بن حریث نے کہا: میں نے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے سے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ دونوں حضرات اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ لوگوں کو حرج کا شکار کریں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف بیمار کی عیادت کرنے والا حصہ نقل کیا ہے ، اور عیادت کرنے والے شخص کے بارے میں یہ کہا: ہے کہ وہ عیادت کرنے والے سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ تھے ، جبکہ یہاں یہ منقول ہے کہ وہ عمرو بن حریث تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔ آگے چل کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک روایت آئے گی جو اس سے زیادہ واضح ہے یہ اس باب میں آئے گی کہ میت کو قبر میں داخل کرتے وقت کیا پڑھنا چاہیے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4142
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (289) اخرجه الامام احمد فى المسند (955 ، 754) اخرجة الامام البزار فى المسند (829)»