مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ اتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ وَالْمَشْيِ مَعَهَا وَالصَّلَاةِ عَلَيْهَا . باب: جنازے کے ساتھ جانا اس کے ہمراہ چلنا اور نماز جنازہ ادا کرنا
حدیث نمبر: 4134
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُجَازَى بِهِ الْعَبْدُ بَعْدَ مَوْتِهِ أَنْ يُغْفَرَ لِجَمِيعِ مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الشَّامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مرنے کے بعد آدمی کو جو سب سے پہلی جزا دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے جنازے میں شریک ہونے والے تمام افراد کی مغفرت کر دی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم شامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔