عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ السُّنْبُلَةِ تَسْتَقِيمُ مَرَّةً وَتَخِرُّ مَرَّةً ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ لَا تَزَالُ مُسْتَقِيمَةً حَتَّى تَخِرَّ وَلَا تَشْعُرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن کی مثال ( کھیت کی ) بالی کی مانند ہے ، جو کبھی جھک جاتی ہے ، کبھی سیدھی ہو جاتی ہے ، اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی مانند ہے ، جو ہمیشہ سیدھا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک ہی مرتبہ گرتا ہے ، اور اسے پتہ بھی نہیں : چلتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ : " مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ وَهُوَ حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ ؟ " قَالَ : إِنَّ ذَلِكَ لَوَجَعٌ مَا أَصَابَنِي قَطُّ ! ! قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ تَحْمَرُّ مَرَّةً وَتَصْفَرُّ أُخْرَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں ” اُم ملدم “ آخری مرتبہ کب ہوا تھا ( راوی کہتے ہیں : ) یہ ایک تپش ہوتی ہے ، جو جلد اور گوشت کے درمیان محسوس ہوتی ہے ( شاید اس سے مراد بخار ہے ) اس نے کہا: یہ تکلیف تو مجھے کبھی لاحق نہیں ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن کی مثال ، پودے ( یا ترو تازہ گھاس ) کی مانند ہوتی ہے ، جو کبھی سرخ ہو جاتا ہے ، اور کبھی زرد ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ يَمِيلُ أَحْيَانًا وَيَقُومُ أَحْيَانًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ فَهْدُ بْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمٍ صَاحِبُ السَّابِرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن کی مثال ( کھیت کی ) بالی کی مانند ہوتی ہے ، جو کبھی جھک جاتی ہے ، اور کبھی سیدھی ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فہد بن حبان ہے ، اور وہ ضعیف ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلم ہے ، جو سابری کا شاگرد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فہد بن حبان ہے ، اور وہ ضعیف ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلم ہے ، جو سابری کا شاگرد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ رِيشَةٍ بِفَلَاةٍ تَقْلِبُهَا الرِّيحُ وَتُقِلُّهَا أُخْرَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ ، وَثَّقَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : رَأَيْتُ أَهْلَ الْعِرَاقِ مُجْمِعِينَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن کی مثال بے آب و گیاہ جگہ پر موجود ” پر “ کی طرح ہے ، جسے ہوائیں الٹتی پلٹتی رہتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبدالجبار عطاردی ہے جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اہل عراق کو دیکھا ہے کہ وہ اس کے ضعیف ہونے پر متفق ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبدالجبار عطاردی ہے جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اہل عراق کو دیکھا ہے کہ وہ اس کے ضعیف ہونے پر متفق ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ يُضْعِفُهَا الْأَرْوَاحُ حَتَّى يَهُبَّ لَهَا رِيحٌ فَيَصْرَعُهَا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " حَتَّى يَهُبَّ لَهَا رِيحٌ فَيَصْرَعُهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن کی مثال کھیت کی تازہ بالی کی مانند ہے ، جسے ہوائیں الٹتی پلٹتی رہتی ہیں ، یہاں تک کہ کبھی ہوا اسے بچھاڑ بھی دیتی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” یہاں تک کہ کبھی ہوا اسے بچھاڑ بھی دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” یہاں تک کہ کبھی ہوا اسے بچھاڑ بھی دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ يَمِيلُ أَحْيَانًا وَيَقُومُ أَحْيَانًا ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ أَرْزٍ يَخِرُّ وَلَا يَشْعَرُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُهَلَّبُ بْنُ الْعَلَاءِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي فِي الْأَدَبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن کی مثال ( کھیت کی ) بالی کی مانند ہے ، جو کبھی جھک جاتی ہے ، اور کبھی کھڑی ہو جاتی ہے ، اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی مانند ہے کہ جو ( ایک ہی مرتبہ ) گر جاتا ہے ، اور اس کا پتہ بھی نہیں چلتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مہلب بن العلاء ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ادب سے متعلق باب میں آگے چل کر کچھ احادیث آئیں گی جو اس کی مانند ہوں گی باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مہلب بن العلاء ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ادب سے متعلق باب میں آگے چل کر کچھ احادیث آئیں گی جو اس کی مانند ہوں گی باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔